india

سوال # 145750

مدرسہ میں نئی فرِیج ایصالِ ثواب کے واسطے دی گئی تھی جس کی قیمت 16,000/= روپیہ تھی، اس فرِیج کو مدرسہ کے ذمہ داروں نے داخل خارج رجسٹر میں درج نہیں کیا گیا ہے اور مدرسہ کی ملکیت نہیں بنایا گیا ، مدرسہ میں وقف کرنے کے تقریباً دو مہینہ بعد اس فرِج کو مدرسہ کے مہتمم صاحب نے بنا شوریٰ کو بتائے، بغیر پروسیڈنگ(کاروائی) کئے، بغیر عوام کو بتائے اس چالو فرِیج کو اپنے حقیقی بیٹے کو 3,000/= روپیہ میں بیچ دیا ہے۔ فرِیج کو وقف کرنے والے نے جب اس بات پر اعتراض کیا تو مہتمم صاحب کا کہنا ہے کہ مدرسہ کو دی ہوئی چیز کو مدرسہ بیچ سکتا ہے، کیا فرِیج کو بیچنے کا یہ طریقہ درست ہے؟

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145750

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 099-093/M=2/1438



 



صورت مسئلہ اگر درست او رمطابق واقعہ تحریر کی گئی ہے تو مہتمم مدرسہ کے لیے اس چالو فریج کو بیچنا جائز نہیں ہوا، موقوفہ چیز بیچی نہیں جاتی ہاں اگر وہ بالکلیہ ناقابل انتفاع ہو جائے تب اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اسی مد میں لگائی جاتی ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہے، نئی فریج کو خریدے ہوئے ابھی صرف دو مہینے ہوئے تھے، موقوفہ چیز کسی کی ملکیت نہیں ہوتی پس صورت مسئولہ میں مہتمم مدرسہ پر لازم ہے کہ اپنے بیٹے کو وہ پیسے لوٹا دے اور اس سے موقوفہ فریج واپس لے لے اور حسب تصریح واقف اسے مدرسہ کے لیے استعمال کرے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات