pakistan

سوال # 145278

کیافرماتے ہیں علمائے دین قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلہ کے بارے میں مسجدکے سامنے ایک راستہ ہے جوشارع عام ہے اوراس راستے کے ساتھ ایک پلاٹ ہے اور یہ ذاتی ملکیت ہے جس میں صاحب پلاٹ اپنے مردوں کی تدفین کرتا تھا ایک عرصہ ہو چکا ہے اس میں مردوں کو دفن کرنا چھوڑدیا گیا ہے آخری مردہ تقریباً ۲۵ سال پھلے دفن کیا گیا اس میں اب قبروں کے نشانات ختم ہوچکے ہیں مسجد میں توسیع کے لیے جگہ کی ضرورت ہے صاحب پلاٹ فوت ہوچکا ہے اور ورثایہ پلاٹ مسجدکودیناچاہتے ہیں تو کیا یہ راستہ اور پلاٹ مسجد میں شامل کیا جا سکتا ہے یا کہ نہیں؟ مسجد والے یہ چاہتے ہیں کہ راستہ اور پلاٹ کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کر لیا جاے اور پلاٹ کے کچھ حصے پر راستہ نکال لیا جاے ایسا کرنا درست ہے یا کہ نہیں؟ جب کہ ورثاء اس پر راضی ہیں۔
نوٹ:نہ صاحب پلاٹ نے اپنا پلاٹ وقف کیا تھا اور نہ ہی اس کے ورثاء نے اس پلاٹ کو قبور کے لیے وقف کیا ہے ۔

Published on: Oct 26, 2016

جواب # 145278

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1255-1245/M=01/1438

بر تقدیر صحت تفصیل جو راستہ شارع عام ہے اس کو مسجد کی توسیع میں شامل کرلینے کے لیے حکومت سے اجازت ضروری ہے اور متبادل جو راستہ پلاٹ والے کے حصے سے نکالا جائے گا ا س کے لیے پلاٹ والے سے بات کرلی جائے کہ تم اتنا حصہ مسجد کے لیے اور اتنا حصہ عام راستہ کے لیے دے دو، اگر تمام ورثہ بالغ ہوں او رسب کی رضامندی ہو اور حکومت کی اجازت ہو تو عام راستہ اور پلاٹ کا کچھ حصہ مسجد کی توسیع میں شامل کیا جا سکتا ہے اور بقیہ حصہ شارع عام کی حیثیت سے چھوڑا جا سکتا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات