• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 14160

    عنوان:

    ہمارے شہر میں بابا نصیر الدین غازی کے مزار کے سامنے دو مسجدیں ہیں۔ ان دو مسجدوں میں سے ایک مسجد گرم پانی کی عدم سہولت کی وجہ سے موسم سرما میں بند رہتی ہے ، جب کہ دوسری مسجد گرمی کے موسم میں استعمال میں ہوتی ہے۔ پہلی والی مسجد جو کہ موسم سرما میں استعمال ہوتی ہے وہ موسم گرما میں بند ہوتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا شریعت کی روشنی میں کہ کیا موسم کی تبدیلی کے ساتھ میں مسجد کا بند کرنا یا کھولنا درست ہے؟ یہ بات یاد رہے کہ یہ مذکور بالا مساجد مزار شریف کے کمپاؤنڈ میں واقع ہیں۔

    سوال:

    ہمارے شہر میں بابا نصیر الدین غازی کے مزار کے سامنے دو مسجدیں ہیں۔ ان دو مسجدوں میں سے ایک مسجد گرم پانی کی عدم سہولت کی وجہ سے موسم سرما میں بند رہتی ہے ، جب کہ دوسری مسجد گرمی کے موسم میں استعمال میں ہوتی ہے۔ پہلی والی مسجد جو کہ موسم سرما میں استعمال ہوتی ہے وہ موسم گرما میں بند ہوتی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا شریعت کی روشنی میں کہ کیا موسم کی تبدیلی کے ساتھ میں مسجد کا بند کرنا یا کھولنا درست ہے؟ یہ بات یاد رہے کہ یہ مذکور بالا مساجد مزار شریف کے کمپاؤنڈ میں واقع ہیں۔

    جواب نمبر: 14160

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1166=970/د

     

    مساجد کو آباد رکھنا اہل ایمان کی علامت قرار دی گئی ہے، اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ الخ ہرمسجد کے قریب آباد مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ پنج وقتہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے اسے آباد رکھنے کی فکر کریں ، تساہلی کرنے سے گنہ گار ہوں گے۔ سوال میں مذکور دونوں مسجدوں کی آبادی الگ الگ موسم میں کیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ صحیح صورت حال وضاحت سے لکھیں بلکہ ذمہ داران کے قلم سے لکھواکر منسلک کریں، تو بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند