India

سوال # 1289

مسجد کے احاطے میں تیس سال سے مدرسہ چل رہا تھا اور تعلیم کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ کبھی کبھی نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اب مسجد کا تعمیری کام شروع ہوا ہے۔ پلان کے مطابق اس جگہ پر ٹوائلٹ اور پیشاب خانہ تعمیر ہورہا ہے۔ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟کیا اس جگہ بیت الخلاء و استنجاء خانہ بنواسکتے ہیں؟مہربانی فرماکر فتوی مرحمت فرمائیں۔

Published on: Sep 13, 2007

جواب # 1289

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 886/ ب= 830/ب


 


آپ کا سوال مبہم ہے صاف طور پر واضح نہیں ہورہا ہے کہ مذکورہ احاطہ جس میں مدرسہ چل رہا ہے: مسجد شرعی (یعنی وہ حصہ جو عبادت کے لیے مختص کردیا گیا ہو) سے الگ ہے۔ یا مسجد شرعی ہی کا کوئی حصہ ہے۔ یا یہ کہ پورا احاطہ مسجد کے لیے وقف ہے؛ لیکن ابھی تک اس احاطے میں عبادت کے لیے مسجد کے طور پر نہ کوئی جگہ خاص کی گئی ہے اور نہ ہی اس نام سے کوئی تعمیر کی گئی ہے۔ اگر پہلی یا تیسری صورت ہے تو اس صورت میں زمین کے اس حصے کو جس میں مدرسہ جاری ہے ٹوائیلیٹ یا پیشاب خانہ کے لیے استعمال کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ کبھی کبھی نماز پڑھنے سے یہ حصہ مسجد شرعی شمار نہ ہوگا۔ البتہ اگر دوسری صورت ہے تو اس حصے کو مذکورہ ضرورت میں استعمال کرنا شرعاً درست نہیں؛ اس لیے کہ یہ حصہ مسجد شرعی ہے عبادت کے علاوہ اب کسی دوسری ضرورت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات