India

سوال # 1252

نئی دہلی کی مساجد میں پیدا ہونے والے ایک نئے رجحان کے سلسلے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ مسجد کی زمین پر اشتہاری ہورڈنگ (بڑے بڑے بورڈ) لگوائے جاتے ہیں۔ کیا کارپوریٹ ، تجارتی و اشتہاری کمپنیوں کو مسجد کی زمین پر اپنے ہورڈنگ نصب کرنے کی اجازت دینا درست ہے؟ مثلاً KGمارگ(دہلی) میں ا یک مسجد ہے جس کا انتظام مولانا جمیل الیاسی دیکھتے ہیں۔ انھوں نے HDILکمپنی کے دو ہورڈنگ لگوائے ہیں، ایک مین گیٹ کے باہری حصہ پر ہے اور دوسرا مسجد کی عقبی حصے میں۔ بہر حال یہ پورا ایریا مسجد کا ہے اور لوگ بھی اسے مسجد ہی سمجھتے ہیں۔کسی کو معلوم نہیں کہ الیاسی صاحب کو ان اشتہارات کا کتنا معاوضہ ملتا ہے۔ یہ اسلام دشمن عناصر کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے، لیکن وہ مسجد کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ بعد میں اشتہارات کی نوعیت کا انتخاب بھی ان کے بس میں نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں آپ کی رہ نمائی مطلوب ہے۔

Published on: Jul 28, 2007

جواب # 1252

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  1151/هـ = 876/هـ)


 


شامی کی کتاب الوقف میں تصریح ہے کہ اپنے مکان کا شہتیر یعنی کڑی یا گاڈر وغیرہ مسجد کی دیوار میں لگانا ناجائز ہے جب اتنا معمولی تصرف جائز نہیں تو تجارتی بڑے بڑے بورڈ اور ہورڈنگ لگانا کس طرح جائز ہوسکتا ہے، دوسری وجہ یہ کہ عامة ان جیسے اشتہارات سے مسجد کی بے ادبی لازم آتی ہے۔ گیا گورنرہاوٴس کے احاطہ میں کسی کمپنی کے اشتہار اورہورڈنگ لگانے کی اجازت ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں پس احکم الحاکمین کے گھر کے احاطہ میں بھی یہ امور خلاف ادب ہیں، تیسری وجہ وہی ہے کہ جو آپ نے لکھی ہے کہ ان جیسے اشتہارات میں نوعیت کا انتخاب بس میں نہیں رہتا، حرام و ناجائز تصاویر پر مشتمل اشتہارات جب لگائے جائیں گے تو ان جیسے ہورڈنگ و اشتہارات سے بالکلیہ پاک صاف رکھنا واجب ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات