India

سوال # 1032

کیا فرماتے ہیں علماء اگر سود کے روپئے سے کسی مدرسے میں عبادت خانہ بنایا جائے تو کیا اس میں نماز اور تعلیم و تدریس صحیح ہے؟ اصول شرع کی روشنی میں جلد از جلد جواب تحریر فرمائیں۔

Published on: Jul 16, 2007

جواب # 1032

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  413/م = 411/م)


 

سودی رقم مال خبیث ہے اورخبیث مال کو عبادت خانہ (مسجد) میں لگانا شرعاً درست نہیں لقولہ علیہ السلام: إن اللہ طیّب لا یقبل إلاّ طیبا الخ (مشکوة:241) اور محض سودی رقم سے بنائی گئی مسجد یا مدرسہ میں نماز و تعلیم مکروہ ہے، اور بننے کے بعد ازالہٴ کراہت کی صورت یہ ہے کہ جتنی سودی رقم لگ گئی ہے اتنی جائز و حلال رقم سے غرباء و فقراء پر تصدق کردیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات