عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 8549

میں نوکری کرتی ہوں، مجھے قرآن شریف حفظ کرنے کا بہت شوق ہے۔ الحمد للہ میں نے تین پارے حفظ کرلیے ہیں۔ میں قرآن شریف کی سورت کو رومن انگلش رسم الخط میں لکھ لیتی ہوں ساتھ میں اردو ترجمہ بھی لکھ لیتی ہوں۔میرے گھر سے آفس کافی دور ہے بس کا سفر ایک گھنٹہ کا ہوتا ہے۔ میں صبح کو جاتے ہوئے اور شام کو واپس گھر آتے ہوئے آیتیں حفظ کرلیتی ہوں۔ رومن انگلش رسم الخط میں اس لیے لکھتی ہوں کہ قرآن شریف کی بے حرمتی نہ ہو۔ کبھی بے وضو بھی ہوتی ہوں تو بھی اسی طریقے سے حفظ کرلیتی ہوں۔ آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ میرا اس طریقے سے لکھنا اور حفظ کرنا غلط تو نہیں ہے یا صرف عربی رسم الخط میں ہی لکھنا چاہیے؟ میں اس طرح لکھتی ہوں مثلاً سورہ فاتحہ اس طرح لکھوں گی?Alhamdulillahe Rabbilaalameen?۔ برائے مہربانی جواب دے کر میری الجھن دور فرمائیں کہ میرا یہ طرز عمل درست ہے یا نہیں؟

Published on: Nov 20, 2008

جواب # 8549

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2025=138/د


 

قرآن کریم کا عربی رسم الخط کے علاوہ کسی دوسرے رسم الخط میں لکھنا بہ اجماع امت ناجز وحرام ہے، کیوں کہ قرآن صحیح قول کے مطابق لفظ و معنی دونوں کا نام ہے اور کسی دوسرے رسم الخط میں لکھنے کی صورت میں مخارج وغیرہ کی رعایت نہیں ہوپاتی، نیز یہ مصحف عثمانی کے رسم خط کی تغییر ہے جو بہ اجماع حرام ہے۔ (جواہر الفقہ، ج۱ ص۸۸) البتہ اگر ضرورت کی وجہ سے ایک یا دو آیتیں لکھ لیں تو اس کی اجازت ہے بشرطیکہ اس کی بھی ادئیگی صحیح مخرج کے ساتھ ہو، نیز اس کا بھی احترام کیا جائے اور باوضو چھونے کا اہتمام کیا جائے، وفي الکافي: إن اعتاد بالفارسیة أو أراد أن یکتب مصحفًا بہا یمنع فإن فعل آیة أو آیتین لا، فإن کتب القرآن وتفسیر کل حرف وترجمتہ جاز۔ (فتح القدیر ج۱ ص۸۲۶) لہٰذا صورت مسئولہ میں انگلش رسم الخط میں لکھی آیتوں کو بے وضو چھونا خلاف ادب ہے اوراس کی عادت کرنا سخت مکروہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات