عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 8325

تراویح اور وتر کے درمیان میں قرآن کی تفسیر کرنا کہاں تک جائز ہے؟ اس کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں۔ بعض علماء حضرات اسے بدعت کہتے ہیں بعض اس کو جائز کہتے ہیں؟

Published on: Nov 11, 2008

جواب # 8325

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1829/د= 113/ک


 

تراویح کے فوراً بعد وتر کی نماز پڑھنا متوارث چلا آرہا ہے، درمیان میں تفسیر قرآن کے ذریعہ فصل کرنا درست نہیں ہے، جس میں لوگوں کو گرانی بھی ہوسکتی ہے، نیز وتر کے انتظار میں لوگوں کو جبراً بیٹھنالازم آئے گا، لوگوں کو مقید کرکے تفسیر کرنا درست نہیں ہے، وتر کی نماز سے فراغت حاصل کرلی جائے، پھر تفسیر بیان کیا جائے تاکہ جو بدون شرکت جانا چاہے اس پر جبر نہ ہو، البتہ ترویحہ میں جتنی مقدار بیٹھتے ہیں کبھی کبھار وقتی ضرورت کے تحت اتنی ہی دیر میں مختصر سا کوئی بیان ہوجائے تو جائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات