عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 7432

مولانا کا اصل معنی کیا ہے؟ چونکہ یہ لفظ قرآن میں اللہ کے لیے استعمال ہوا ہے (سورہ بقرہ کی آخری آیت : انت مولانا فانصرنا․․․․․․․)۔ کیا مسلم علماء کے لیے اس خطاب کا اپنے ناموں کے ساتھ استعمال کرنا مناسب ہے؟

Published on: Oct 15, 2008

جواب # 7432

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1477=1392/ د


 


مولیٰ کے معنی لغت میں مالک و سردار، غلام آزاد کرنے والا، آزاد شدہ، انعام دینے والا جس کو انعام دیا جائے، محبت کرنے والا، ساتھی، حلیف ، پڑوسی مہمان، شریک، بیٹا، چجا کا بیٹا، بھانجا، چچا، داماد، رشتہ دار، ولی، تابع لکھے ہوئے ہیں اس کے جمع موالی آتی ہے۔ جس موقعہ پر استعمال کیا جائے گا اسی مناسبت سے معنیٰ متعین ہوں گے۔ آبت قرآنی میں اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوا ہے، اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے استعمال فرمایا ہے، من کنت مولاہ فعلي مولاہ، اور آزاد کردہ غلام کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، مولی القوم منہم اس سے معلوم ہوا کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اسماء وصفات میں سے نہیں ہے، جس کا استعمال غیر کے لیے جائز نہ ہو، اسی بناء پر لوگ علمائے کرام بزرگان دین کے لیے مولانا کا لفظ استعمال کرتے ہیں مولانا کا ترجمہ ہوا ہمارے سردار۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات