عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 7197

میں تقریباًایک سال سے یہاں چین میں رہتا ہوں۔ یہاں پر پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں مسلم بھی اورغیر مسلم بھی۔ جمعہ کی نمازمیں بہت ساری چیزیں مشاہدہ کرنے کو ملتی ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ جن کی مادری زبان اور قومی زبان عربی ہوتی ہے وہ قرآن کو اٹھاتے یا پڑھتے وقت ایک عام کتاب کی طرح معاملہ کرتے ہیں۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پڑھ رہا ہو تو قرآن کے اوپر سے جوتے گزار کے لے جاتے ہیں۔کیا اس سے قرآن کی حرمت میں فرق نہیں آتا؟ (۲) اورایک بات کہ یہاں پر مسجد میں فرض با جماعت نماز میں سب ہوتے تو ایک امام کے پیچھے ہیں لیکن نماز اپنے طریقہ سے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی ہاتھ کھول کے ،کوئی رفع یدین کر رہا ہوتا ہے۔ آپ واضح طور پر اور حوالہ کے ساتھ نماز کا صحیح طریقہ بتادیں۔ اس کو برا نہ مانیں لیکن میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ بہت سارے سوالوں کا مبہم جواب دیتے ہیں جس کی وجہ سے شک ہی رہتا ہے۔ (۳) شیعہ حضرات جو ظہرین اور مغربین پڑھتے ہیں کیا وہ صحیح ہے؟ کیا اسلام میں کبھی اس کا تصور تھا؟ اگر تھا تو کیا وجہ تھی کہ ظہرین یا مغربین کی ضرورت پیش آئی۔ اور اگر نہیں تھا تو اس کا مطلب ہے کہ ظہرین اور مغربین پڑھنے والوں کی نماز یں بے قیمت ہیں؟

Published on: Oct 19, 2008

جواب # 7197

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1838=1449/ ھ


 


(۱) اگر کچھ فاصلہ سے گذرجائیں تو مضائقہ نہیں اور بالکل قریب سے جوتا قرآن کریم کے اوپر سے گذاریں یہ مکروہ ہے۔


(۲) نماز تو سب کی درست ہوجاتی ہے، البتہ مسندِ حمیدی ج:۲ ص:۲۷۷ اور صحیح ابوعوانہ ص:۹۰ پر صحیح حدیث سے صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین ثابت ہے اور بقیہ مواقع میں نہیں اور یہی ہمارے نزدیک راجح ہے۔


(۳) شیعہ صاحبان کے یہاں ظہرین اورمغربین کس طرح رائج ہیں، ہمارے علم میں نہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات