عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

qatar

سوال # 166640

سوال یہ ہے کہ اگر قرآن پڑھانے کے بعد فیس لے سکتے ہیں تو تراویح میں کیوں منع کیا گیا؟کچھ مولانا کہتے ہیں ٹائم کی فیس لیتے ہیں تو اس لحاظ سے تراویح میں بھی تو ہم ٹائم دیتے ہیں، یا پھر یہ کہ اگر تراویح عبادت ہے تو قرآن پڑھانا بھی تو عبادت ہے نا؟ وضاحت فرمائیں۔ شکریہ

Published on: Nov 4, 2018

جواب # 166640

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 256-210/M=2/1440



دوسروں کو قرآن سکھانا یہ تعلیم قرآن ہے اور تراویح میں قرآن سنانا یہ قرأت محضہ ہے فقہاء کرام نے تعلیم قرآن پر فیس (اجرت) لینے کو ضرورةً جائز قرار دیا ہے تاکہ ضیاع قرآن لازم نہ آئے، تراویح میں قرآن سنانا یہ تعلیم نہیں بلکہ قرأت مجردة ہے نیز یہاں ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے تراویح میں قرآن سنانے پر اجرت لینا درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات