عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

pakistan

سوال # 164093

امید ہے خیریت سے ہوں گے مسئلہ پوچھنے سے پہلے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں جو انتہائی ضروری سمجھتا ہوں اس مسئلہ کیلئے اللہ کے فضل سے میں(مفتی محمد دین)نے ایک ٹرسٹ بنایا ہے "حفاظت قرآن ٹرسٹ" کے نام سے ، اس ٹرسٹ کے ذریعہ میں مساجد،مدارس اور گھروں سے قرآن مجید کے جو ضعیف نسخیں جمع کرتا ہوں جو قابل مرمت ہو ان کی مرمت کرکے فی سبیل اللہ تقسیم کرتا ہوں اور جو زیادہ ضعیف ہو مطلب قابل مرمت نا ہو ان کو سٹور کرتا ہوں۔ اب ارادہ ہے ان کے لئے ایک پلانٹ لگانے کا تقریبا دو کروڑ تک اس کی لاگت ہے . اس پلانٹ کے ذریعہ ضعیف قرآن مجیدوں کو کرل کر کے نیا کاغذ بنا کر اس پر ازسرنو قرآن مجید کی پرنٹنگ کروں گا ان شاء اللہ. پہلے تو یہاں لوگ قرآن مجید کے ضعیف نسخوں کو یا تو دفن کرتے یا دریا میں ڈال دیتے تھے ، آجکل تو قبرستان بھی کھیل کے میدان بن گئے ہیں لوگ قبروں پر بھی کھیلتے ہیں، اور دریا میں اگر ڈال دیتے ہیں تو اس کے الفاظ نہیں مٹتے ہیں کیونکہ پکی سیاھی ہے اوراق اکثر اوقات کھیتوں میں ہوتے ہیں، اور نا ان کو جلانے کا دل کرتا ہے ، حفاظت کیلئے ہی جمع کرتا ہوں اور حفاظت ہی کیلئے اب پلانٹ لگانے کا ارادہ ہے ؛
اب پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ (1)میرے لئے یہ کام جائز ہے یا نہیں؟ (2)قرآن مجید کے ضعیف نسخوں کو مشین کے ذریعہ کر کے نیا کاغذ بنا کر اس پر قرآن مجید کی دوبارہ اشاعت جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ اس کاغذ پر قرآن مجید کے علاوہ اور کسی چیز کی پرنٹنگ نہیں ہوگی جواب دیں کر مشکور فرمائیں التجاء:اگر یہ کام جائز ہے تو میرے لئے دعا کرنا کہ اللہ وسائل مہیا کرکے اخلاص نصیب فرماکر قبولیت سے نوازے ۔

Published on: Oct 6, 2018

جواب # 164093

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1269-205T/B=1/1440



بوسیدہ اوراق کو مشین کے ذریعہ ان کی پسائی کرکے جو نیا کاغذ تیار ہوگا ممکن ہے کہ بالکل بے جان ہو، بے جان کاغذ پر قرآن پاک کی چھپائی زیادہ کارآمد اور پائیدار نہ ہوگی۔ پھر پسائی کے لئے مشین پر مزدور لوگ اوراق ڈالیں گے تو اس میں بڑی بے احتیاطی ہوگی قرآن کا احترام ختم ہو جائے گا ۔ اس لئے اتنا لمبا چوڑا پلانٹ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ بس آپ اپنی وسعت کے مطابق جس قدر بوسیدہ قرآن کو پاک صاف کپڑے میں لپیٹ کر کہیں گڑھا کھود کر انہیں دفن کردیا کریں۔ یہ قرآن کی حفاظت و احترام کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ ۲/ کروڑ کا پلانٹ بنانے کا ارادہ ترک فرمادیں۔ اسی میں عافیت ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات