عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 163773

(۱) قرآن شریف کو موبائل میں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
(۲) کیا حدیث کی کتابوں کو چھونے کے لئے وضو ضروری ہے؟
(۳) کن کتابوں کے لئے وضو ہونا ضروری ہے؟
(۴) ناپاکی میں کیا کیا چیزیں منع ہو جاتی ہیں؟
(۵) سفر میں قرآن شریف اور دینی کتابوں کو کیسے رکھیں؟

Published on: Sep 19, 2018

جواب # 163773

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1221-230T/SN=1/1440



(۱) جائز ہے، بس جب آیات کریمہ اسکرین پر نظر آرہی ہوں اس وقت اسکرین پر ہاتھ نہ لگایاکریں۔



(۲) ضروری نہیں ہے، بغیر وضو بھی چھونے کی گنجائش ہے؛ باقی بہرحال بہتر تو یہی ہے کہ دینی کتابیں باوضو ہی ہاتھ میں لی جائیں۔



(۳) قرآن کریم ، پارے، اسی طرح جن کتابوں میں دیگر مضامین و مواد کے بالمقابل آیات کریمہ زیادہ ہوں انہیں ہاتھ لگانے کے لئے وضو ضروری ہے۔



(۴) جس شخص کا وضو نہ ہو اس کے لئے نماز پڑھنا ، طواف کرنا اوربغیر حائل قرآن کریم ہاتھ میں لینا شرعاً جائز نہیں ہے؛ ہاں ہاتھ لگائے بغیر قرآن کریم کی تلاوت کرسکتا ہے اور جس شخص کو غسل کی ضرورت ہو اس کے لئے مذکورہ بالا چیزوں کے ساتھ ساتھ مسجد میں داخل ہونا اور زبان سے قرآن کریم تلاوت کرنا بھی ناجائز ہے، تعلیم الاسلام اور بہشتی زیور وغیرہ میں پاکی اور ناپاکی کے مسائل تفصیل سے موجود ہیں ، ان کتابوں کا مطالعہ بہت مفید ہوگا۔



(۵) حسب سہولت بیگ وغیرہ میں رکھیں، اگر بغرض حفاظت بیگ میں رکھ کر بیگ سیٹ کے نیچ رکھتے ہیں یا کچھ لوگ اس سے اوپر سیٹوں پر بیٹھے ہوں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، گنجائش ہے۔ مستفاد از: والجلوس علی جولق فیہ مصحف إن قصد الحفظ لایکرہ وإلا یکرہ (الأشباہ والنظائر: ۱/۱۰۸، ط: کراچی)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات