عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 162307

آج کل اکثرمساجدمیں نماز تراویح پڑھانے میں اتنی جلدبازی کی جاتی ہے کہ حروف بھی صحیح طورپر ادا ہوتے نہیں ہیں نہ سمجھ میں آتے ہیں ایسے حفاظ کیلے کیا حکم ہے ؟مفصل ومدلل جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں عنایت فرمادیں۔

Published on: Jul 3, 2018

جواب # 162307

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1304-1061/L=10/1439



تراویح میں قرآن شریف صاف اور واضح انداز میں پڑھنا چاہیے ارشاد خداوندی ہے : وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً (مزمل:۴) یعنی (قرآن کو خوب صاف صاف پڑھو،ایک ایک حرف الگ الگ ہو )ایسی تیز رفتاری سے قرآن پڑھنا جس سے حروف کٹ جائیں اور الفاظ کی ادائیگی، صحیح وصاف نہ ہو درست نہیں۔ قال في الفتاویٰ الہندیة:ویکرہ الإسراع في القراء ة وفي أداء الأرکان کذا في السراجیة، وکلما رتل فہوحسن کذا في فتاوی قاضي خاں(الفتاوی الہندیة،فصل في التراویح:۱/۱۱۸)حفاظ کو اس کا خیال رکھنا چاہیے بسا اوقات یہ ثواب کے بجائے گناہ کا باعث ہو جائے گا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات