عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

INDIA

سوال # 162105

کسی عالم یا طالب علم سے قرآن پڑھوا لیا جائے اور ثواب کی نیت سے دعا کرائی جائے، مردے یا اور کام کی نیت سے، اور احترام کی نیت سے ان قرآن پڑھنے والوں کو ناشتہ یا کھانا کھلایا جائے تب قرآن کا ثواب مردے کو یا حاضرین کو ملے گا یا نہیں؟ یا ایسا کرنا گناہ ہوگا؟

Published on: Jun 6, 2018

جواب # 162105

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1125-1036/M=9/1439



مردے کو ثواب پہونچانے کے لئے قرآن پڑھوانے کا جو مروجہ طریقہ ہے وہ خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے مکروہ ولائق ترک ہے۔ مروجہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن خوانی کے لئے لوگوں کو بلایا جاتا ہے قرآن پڑھنے پڑھوانے کے بعد ناشتہ کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے اور یہ کام متعین تاریخوں میں کرنے کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے جب کہ یہ چیزیں ثابت نہیں اس لئے اجتماعی قرآن خوانی کا طریقہ ترک کرنا چاہئے جب پڑھنے والے کو ثواب نہیں ملے گا تو وہ مردے کو کیسے پہونچے گا۔ کسی اور کام کی نیت سے کیا مراد ہے واضح نہیں۔ بہرحال بہتر صورت یہ ہے کہ خود قرآن پڑھ کر حسب موقع مردے کو ایصال ثواب کردیا کرے اس کے لئے کوئی تقریب نہ کی جائے کوئی دن تاریخ لازم و متعین نہ کرے اور قرآن پڑھ کر کھلانا پلانا اور اجرت کا لین دین نہ کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات