عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

United Kingdom

سوال # 161563

محترم حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم،
کیا سجدہ تلاوت کا صرف ترجمہ پڑھنے سے سجدہ کرنا واجب ہے ؟ ر اجح قول کیا ہے ؟ مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاکم اللہ تعالیٰ خیرا
سجدہ تلاوت کا صرف ترجمہ پڑھنے سے سجدہ واجب نہ ہونے کی دلیل: آکام النفائس بأداء الأذکار بلسان فارس صفحہ 40 تا 43 سجدہ تلاوت کا صرف ترجمہ پڑھنے سے سجدہ واجب ہونے کی دلیل: ( وہو ) أی سجود التلاوة ( واجب ) ... ( ولو ) تلاہا ( بالفارسیة ) اتفاقا فہم أو لم یفہم لکونہا قرآنا من وجہ قال الطحطاوی: قولہ ( ولو تلاہا بالفارسیة ) المراد بہا غیر العربیة فتجب علی السامع إذا أخبر بہا قولہ ( فہم أو لم یفہم ) قال فی الجوہرة أما فی حق السامع فإن کانت القرائة بالعربیة وجب علی السامع فہم أو لم یفہم إجماعا وإن کانت بالفارسیة لزم السامع أیضا وإن لم یفہم عند الإمام وعندہما لا یلزم إلا إذا فہم وروی رجوعہ إلیہما وعلیہ الاعتماد اہ قولہ ( لکونہا قرآنا من وجہ ) أی نظرا للمعنی دون وجہ نظرا للنظم فباعتبار المعنی توجب السجدة وباعتبار النظم لا توجبہا فتجب احتیاطا أفادہ السید (حاشیة الطحطاوی 480)

Published on: May 30, 2018

جواب # 161563

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1016-954/M=9/1439



جی ہاں آیت سجدہ کا ترجمہ پڑھنے سے بھی سجدہٴ تلاوت واجب ہے اور سامع پر راجح قول کے مطابق اس وقت واجب ہے جب کہ وہ یہ جان لے اور سمجھے کہ تالی قرآن پڑھ رہا ہے۔ درمختار میں ہے: ولو بالفارسیة․․․ شامی میں ہے: قولہ إذا أخبر أي بأنہا آیة سجدة سواء فہمہا أو لا وہذا عند الإمام وعندہما: إن علم السامع أنہ یقرأ القرآن لزمتہ وإلا فلا بحر․ وفي الفیض وبہ یفتی وفي النہر عن السراج أن الإمام رجع إلی قولہما (شامی اشرفی: ۲/۵۰۴)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات