عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 160681

عالی جناب اس تعلق سے مذہب میں کوئی واضح حوالہ موجود ہے تو برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔ نوازش ہوگی، مہاراشٹرا کے ایک اسکول میں میں نے دیکھا کہ ایک اسکول جو صبح سات بجے شروع ہوتا ہے الحمد اللہ اس میں سورہ فاتحہ پھر اور کسی سورة کی تلاوت اور پھر اس کے بعد راشٹر گیت ہوتا ہے ان سبھی کے لئے طلبا اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اب سوال یہ کہ ہیڈ جو ایک عورت ہیں، چونکہ نیم گورنمینٹ سرونٹ ہیں اور آفیسرس کی ہر بات ماننا ان کے لئے فرض اولین ہے ان کی ہدایت یہ کہ تمام طلبا سورہ فاتحہ پھر اور کسی سورة کی تلاوت اور پھر اس کے بعد راشٹر گیت کے لئے اپنی جگہ پر کھڑے ہو جائیں گے اساتذہ شش و پنج میں مبتلا ہیں اور چاہتے ہیں کہ تلاوت کے وقت طلبا بیٹھے رہیں گے اور راشٹریہ گیت کے وقت کھڑے رہیں گے ، اس بارے میں انہوں نے ہیڈ سے بھی بات کی تو وہاں سے جواب یہ ملا کہ اگر کوئی گورنمینٹ آفیسر صبح سات بجے راونڈ پر آئیگا تو کیا ہوگا دوسرے یہ کہ تلاوت کے بیٹھنا اور راشٹریہ گیت کے وقت کھڑے رہنا، اس عمل میں تلاوت کی بے حرمتی جیسا لگتا ہے ( یعنی کھڑے رہنے کا عمل زیادہ عزت والا ہے ) تیسرے کسی صاحب نے جن کا وہ احترام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ نماز میں بھی تو کھڑے رہ کر تلاوت کی جاتی ہے اس لئے یہ جائز ہے جبکہ اس طرح کی کوئی دلیل ہے یا نہیں مجھے پتا نہیں۔ تھوڑا بہت علم جاننے والے اساتذہ طلبا کو تلاوت کے وقت بٹھانا چاہتے ہیں۔ اساتذہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صبح سات بجے کسی آفیسر کا آنا ممکن نہیں، اور اگر آئے بھی تو کیا وہ اس عمل پر ( یعنی تلاوت کے وقت بٹھا کر راشٹریہ گیت پر کھڑے کرنے پر) کوئی ایکشن لئے گا؟ یہاں لگتا تو ایسا بھی ہے کہ ہیڈ کا اساتذہ کے فیصلے کو ماننے میں خود کی ہار یا بے عزتی کا امکان غالب ہے اس تعلق سے ہیڈ مسٹریس اور اساتذہ دونوں مفصل رہنمائی چاہتے ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی کریں، شکریہ

Published on: Apr 22, 2018

جواب # 160681

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:858-673/B=8/1439



قرآن کی تلاوت کھڑے ہوکر بھی جائز ہے لیکن ادب واحترام یہ ہے کہ اسے بیٹھ کر دوزانو پڑھا جائے، نماز پر قیاس کرنا کہ نماز میں یہی قرآن کھڑے ہوکر پڑھا جاتا ہے۔ تو وہاں قیام کرنے کا اللہ کی طرف سے حکم آیا ہے اور حدیث میں قراء ة کرنے کا حالت قیام میں حکم آیا ہے۔ اور خارج نماز میں بیٹھ کر ہی تلاوت کرنا بہتر اور آداب تلاوت میں سے ہے۔ حضرت امام غزالی نے احیاء العلوم میں یہی ادب لکھا ہے۔ اس میں قرآن کی کوئی بے ادبی نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات