عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 157015

اللہ سبحانہ وتعالی نے والعصر میں دعوت کا جو حکم دیا ہے اس سے اللہ کی منشا کیا ہے؟ کیا اللہ نے یہ حکم ایمان والوں کے ایمان میں ترقی اور استقامت کے لیے دیا ہے؟یا کہ اللہ نے دعوت کا یہ حکم کفر اور شرک کو مٹانے اور ایمان والوں میں دین کی اصلاح کے لیے دیا ہے؟
میرا یہ ماننا ہے کہ دعوت سے داعی کو ضرور نفع ہوگا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اصل اللہ کی منشاء کیا ہے؟

Published on: Dec 13, 2017

جواب # 157015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:276-192/sd=3/1439



 سورہ والعصر کی تفسیر میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے لکھا ہے کہ : اس سورت میں حق تعالی نے زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ نوع انسان بڑے خسارے میں ہے اور اس خسارے سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں، جو چار چیزوں کے پابند ہوں: ایمان، عمل صالح، دوسروں کو حق کی نصیحت و وصيت اور صبر کی وصیت، دین و دنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کا یہ قرآنی نسخہ چار اجزاء سے مرکب ہے ، جن میں پہلے دو جزء اپنی ذات کی اصلاح کے متعلق ہیں اور دوسرے دو جزء دوسرے مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح سے متعلق ہیں۔اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ سورہ والعصر میں دوسروں کو حق بات کی فہمائش کے ساتھ ساتھ خود ایمان و عمل پر قائم رہنے کی بھی مستقل تاکید کی گئی ہے اور دوسروں کو حق کی فہمائش کرنا خود کرنے والے کے لیے یقینا نفع نخش ہے ، ، مزید تفصیل کے لیے معارف القرآن دیکھیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات