عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 156842

میرا سوال یہ ہے کہ ایک میسج آرہا ہے آج کل، جس میں ایک صاحب بولتے ہیں کہ جو قرآنی آیت ہم میسج کرتے ہیں وہ لوگ ڈیلیٹ (ختم کردینا) کردیتے ہیں، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے لوگ قرآن کے الفاظ مٹائیں گے، کیا یہ بات درست ہے؟ اور قرآنی آیات کا میسج کرنا جائز ہے؟

Published on: Dec 13, 2017

جواب # 156842

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:235-203/sd=3/1439



 ضرورت پر واٹساپ وغیرہ کے ذریعے کسی کو قرآنی آیت بھیجنا قرآن کریم کی بے ادبی نہیں ہے اور ضرورت پر قرآنی آیت ڈلیٹ کردینا بھی درست ہے ، یہ قیامت کی علامات سے نہیں ہے۔ ولو کان فیہ اسم اللہ تعالی أو اسم النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یجوز محوہ لیلف فیہ شیی کذا فی القنیة، ولو محا لوحا کتب فیہ القرآن واستعملہ فی أمر الدنیا یجوز،… کذا فی الغرائب(الفتاوی الھندیة ،کتاب الکراھیة، الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف وما کتب فیہ شیی من القرآن نحو الدراھم والقرطاس أو کتب فیہ اسم اللہ تعالی، ۵: ۳۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات