عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

India

سوال # 156459

امید ہے کہ آپ جناب خیر و عافیت سے ہوں گے بعد اس کہ ایک خیال جو ذہن سے گذرا، بس اسی کی رو سے معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ صحیح بھی ہے کہ نہیں قرآن کی آیت ہے واذ قلنا للملئکة اسجدوا لأدم فسجدوا إلا ابلیس ،واقعة مشہور ہے کہ ابلیس نے دنیا کے ہر گوشہ سجدہ کیا اللہ کیلے لیکن جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کہا تو اس نے روگردانی کی اس واقعہ سے ہمیں بھی ایک سبق ملتا ہے کہ دنیا میں ہر مسلمان اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے چاہے ظالم ہو یا مظلوم اسے ذرہ بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی لیکن جہاں مظلوم کے سامنے اللہ کی رضا کے خاطر پست ہونے کی بات آے تو اکڑ جاتا ہے اور بندوں کی حق تلفی میں کو ئی قصر نہیں چھوڑتا تو کیا یہ بھی شیطان کا بھائی ہوا؟ اس سے یہ خیال گذرا کہ جیسے شیطان کے ہزارہا سجدے رائیگاں ہوئے ، ویسے میری عبادت بھی اللہ کو تب تک راضی نہیں کرسکتی جب تک میں اللہ کی رضاء کے خاطر اس کے بندوں کے حقوق نہ دیدوں؟ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ

Published on: Nov 27, 2017

جواب # 156459

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:271-210/L=3/1439



اگر کوئی شخص ناحق پر ہوتے ہوئے بھی محض تکبر کی بنا پر اپنے سے چھوٹوں کے سامنے نہ جھکے بلکہ ناک نیچی نہ ہوجائے اس وجہ سے وہ ان پر ظلم پر آمادہ ہو ایسا شخص واقعی شیطان کا بھائی اور اسی کے قدم بہ قدم چلنے والا ہے اور ممکن ہے کہ یہ عمل بروزِ قیامت اس سے باز پرسی کا باعث ہوجائے اوروہ دیگر نیک اعمال کے باوجود دخولِ اولیں سے محروم ہوجائے ؛البتہ وہ شیطان کی طرح ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں داخل نہہوگا؛بلکہ کسی نہ کسی دن اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد ایک نہ ایک دن جنت میں ضرور داخل ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات