عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Saudi Arabia

سوال # 148412

آج کل لوگ ہر بات میں بحث کرنے لگتے ہیں، ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ سورہٴ واقعہ پڑھنے سے روزی میں برکت کے متعلق میری نظر سے نہیں گذرا، تو میں نے جواب دیا کہ آپ کون ہیں اور آپ کی کیا حیثیت ہے؟ آپ اور میں دنیادار ہیں، یعنی ایک ہی تعمیراتی کمپنی میں انسپکٹر اور سول انجینئر (inspector aur civil engineer) ہیں، اتنی ساری احادیث ہماری نظر سے کیسے گذر سکتی ہے جب کہ ہم لوگ عالم نہیں ہیں۔ احادیث کے بارے میں علمائے کرام و مفتیان عظام یا شیخ الحدیث ہماری صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ سورہٴ واقعہ مغرب کے بعد یا عشاء کے بعد پڑھنے سے کیا روزی میں برکت ہوتی ہے؟
برائے مہربانی ہوسکے تو اس کا حوالہ بھی دے دیں تو کرم ہوگا، کیونکہ اس کا حوالہ مجھے اپنے ایک دوست کو بتلانا ہے۔

Published on: Mar 7, 2017

جواب # 148412

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 600-628/L=5/1438



سورہ واقعہ کے بارے میں حدیث شریف میں یہ مذکور ہے: من قرأ سورة الواقعة في کل لیلة لم تصبہ فاقة أبداً یعنی جو شخص ہر رات سورہ واقعہ کی تلاوت کرے اس کو کبھی فاقہ نہیں پہونچے گا، اس حدیث کے راوی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر رات اپنی لڑکیوں کو یہ حکم کرتے کہ وہ اس سورت کی تلاوت کریں۔ (مشکوٰة: ۱۸۹)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات