عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Saudi Arabia

سوال # 145878

روزانہ کتنا قرآن پڑھنا چاہئے؟
برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمادیں۔

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 145878

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 137-156/SN=3/1438



 



اس سلسلے میں متعدد اقوال حضراتِ فقہاء سے منقول ہیں بعض نے کہا کہ روزانہ اتنا پڑھے کہ چالیس روز میں ایک ختم مکمل ہو جائے ، بعض نے سال میں دو مرتبہ ختم کرنے کو بہتر کہا، بعض نے ایک مہینے میں ختم کرنے کی بات کہی ہے؛ لیکن اس سلسلے میں راجح یہ ہے کہ تلاوت کی شرعاً کوئی مقدار متعین نہیں ہے، آدمی کو چاہئے کہ آدابِ تلاوت کی رعایت کے ساتھ بآسانی زیادہ سے زیادہ روزانہ جتنا قرآن پڑھ سکے، پڑھے، اگر تلاوت کے ساتھ معتبر و مستند تفسیر کی مدد سے اس کے معانی و مطالب میں بھی غور کرے تو زیادہ اچھا ہے ، حلبی کبیری میں ہے ثم قیل الأول أن یختم القرآن في کل أربعین یوماً، وقیل ینبغي أن یختمہ فی السنة مرتین روي عن أبي حنیفة انہ قال: من قرأ القرآن فی السنة مرتین فقد قضی حقہ الخ (ص: ۴۹۹، ط: اشرفی) اور مرقات شرح مشکات میں میں ہے: ․․․․․ قال النووی: المختار أن ذلک یختلف باختلاف الأشخاص فمن کان یَظْہر لہ بدقیق الفکر اللطائف والمعارف فلیقتصر علی قدر یحصل کمال فہم مایقرأہ ومن اشتغل بنشر العلم أو فعل الخصومات من مہمات المسلمین فلیقتصر علی قدر لایمنعہ من ذلک ومن لم یکن من ہولاء فلیستکثر ما أمکنہ من غیر خروج إلی حد الملالة أو الہذرمة وہی سرعة القرأء ة الخ مرقات المفاتیح، کتاب فضائل القرآن، حدیث رقم: ۲۲۰۱)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات