عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 145610

آج کل امریکن کمپنی کا ایک موبائل جس کا نام Apple ہے اس موبائل میں کی پیڈ نہیں ہوتا بلکہ اس موبائل کی اسکرین کو انگلی سے چُھو کر استعمال کیا جاتا ہے ، کیوں کہ پورا قرآن کریم کمپیوٹر سافٹ ویئر کی صورت میں موجود ہے تو قرآن کریم کے سافٹ ویر کو مندرجہ بالا موبائل میں ڈاؤن لوڈ کر دیا جاتا ہے اور پورا قرآن کریم اس Apple موبائل میں موجود ہوتا ہے ۔یہ موبائل اسکرین کو ہاتھ کی انگلی سے چُھو کر استعمال ہوتا ہے ، لہٰذا جب قرآن کریم کو پڑھنے کے لیے اسکرین پر لایا جاتا ہے تو ظاہر ہے اسکرین کو ہاتھ لگانا ہو گا اور اگلے صفحوں کو لانے کے لیے بھی انگلیوں کو استعمال کرنا ہو گا۔سوال یہ ہے کہ
(۱) بغیر وضو کے اس طرح استعمال کرنا جائز ہے ؟ اور
(۲) کیا یہ موبائل قرآن پاک کے زمرے میں شامل نہیں ہو گا اور
(۳) کیا یہ موبائل قمیص ، شلوار یا پتلون کی جیب میں رکھا جاتا ہے اور شلوار کی جیب رانوں پر شرم گاہ کے قریب ہوتی ہے او رپتلون کی جیب بھی رانوں پر شرم گاہ کے قریب یا پھر کولہوں پر ہوتی ہے کیا یہ جائز ہے ؟اور کیوں کہ یہ موبائل جیب میں ہوتا ہے اس لیے جب انسان بیت الخلاء جاتا ہے تو موبائل بھی اس کی جیب میں ہوتا ہے تو
(۴) کیا اس موبائل کو بیت الخلاء لے جانا صحیح ہے ؟
(۵) اسی طرح بعض لوگ اس موبائل میں گانے ، تصاویر، فلمیں اور دوسری خرافات بھی قرآن کریم کے ساتھ رکھتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟

Published on: Nov 29, 2016

جواب # 145610

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 159-175/L=2/1438



(۱) موضع مکتوب پر (قرآنی آیات کے کلمات پر) بغیر وضو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ خالی اسکرین پر ہاتھ لگانے کی گنجائش ہے المکروہ مس المکتوب لا موضع البیاض ذکرہُ التمرتاشی حلبی کبیری ۵۸فروع إن جنبت المرأة ط: اشرفیہ دیوبند۔



(۲) نہیں اس پر مصحف کا اطلاق نہیں ہوگا۔



(۳) گنجائش ہے إذا کان للرجل جوالق وفیہا دراہم مکتوب فیہا شيء من القرآن ․․․․ فجلس علیہا أو نام، فإن کان من قصدہ الحفظ فلا بأس بہ کذا في الذحیرة۔ ہندیہ: ۵/۳۷۳، کتاب الکراہیة /الباب الخامس في آداب المسجد والقبلہ والمصحف ط: زکریا دیوبند۔



(۴) لاک ہونے او رسُوِچ آف ہونے اور جیب میں مستور ہونے کی صورت میں اس کو لے کر بیت الخلاء میں جانے کی گنجائش ہے لا بأس بأن یکون مع الرجل في خرقة دراہم وہو علی غیر وضوء ہندیہ: ۵/ ۳۷۴۔ کتاب الکراہیة / الباب الخامس ط: زکریا دیوبند ۔



(۵) گانوں او رتصاویر و دیگر خرافات کا موبائل میں رکھنا تو کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، اور جب اس موبائل میں قرآن پاک بھی ہو، تو اس میں قباحت اور بھی بڑھ جائے گی؛ لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے اختلفوا في التغنی المجرد: قال بعضہم: إنہ حرام والاستماع إلیہ معصیة وہو اختیار شیخ الإسلام ہندیہ: ۵/۴۰۶، کتاب الکراہیة/ الباب السابع عشر: في الغناء الخ ط: زکریا دیوبند۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات