عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 1020

سورة الانبیاء آیت نمبر ۳۰ و سورة فصلت آیت نمبر ۱۱ کی تشریح ڈاکٹر ذاکر نائک اس طرح کرتے ہیں: علمائے فلکیات کی تشریح کے مطابق کائنات کی تخلیق ?بڑے دھماکے? (Big Bang ) سے ہوئی ہے۔اس وقت یہ خیال مقبول عام ہے اور کئی دہائیوں سے ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کے مشاہداتی و توضیحاتی جمع کردہ مواد سے اس نظریہ کی توثیق و تائیدکی جارہی ہے۔ ?بڑے دھماکے? کے اس نظریہ کے مطابق پوری کائنات ابتدا میں ایک بڑا جامد مجموعہ تھی۔ پھر اس میں دھماکہ ہوا جس کی بنیاد پر کہکشاؤں کا وجود عمل میں آیا۔پھر ان سے ستاروں، سیاروں ، سورج، چاند وغیر ہ کا وجود ہوا۔ کائنات کی ابتدا بے مثال تھی اور ایسا اتفاقاً ہوجانا بھی درجہٴ صفر میں ہے۔ قرآن میں ابتدائے کائنات کے متعلق یہ آیت موجود ہے:سورة الانبیاء آیت نمبر ۳۰۔ بڑے دھماکے اور قرآنی آیت کے درمیان اتفاق نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک کتاب جو صحرائے عرب میں چودہ سو سال قبل اتاری گئی اس میں یہ آج کی یہ سائنسی حقیقت موجود تھی۔


کہکشاؤں کی تخلیق سے پہلے ایک گیس کے مادے کا گولہ تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کائنات میں کہکشاؤں کی تشکیل سے قبل سماوی وجود گیس کے مادے کی شکل میں تھا۔ غرض یہ کہ کہکشاؤں کی تشکیل سے قبل بڑے بڑے گیس کے مادے (یا بادل) موجود تھے۔ ابتدائی سماوی وجود کو بیان کرنے کے لیے گیس کے بالمقابل ?دھنویں? (دخان) کا لفظ زیادہ مناسب ہے۔ درج ذیل آیت میں لفظ دخان سے کائنات کی اسی حالت کو بیان کیا گیا ہے: سورة فصلت آیت نمبر ۱۱ ۔بڑے دھماکے کے نتیجے کے طور پر ظہور پذیر ہونے والی اس حقیقت سے بھی زمانہٴ نبوی کے عرب ناآشنا تھے ۔ پھر اس علم کا مصدر و منبع کیا تھا؟( یقینا وحی الٰہی تھا)

در حقیقت وہ سائنس کے اس نظریہ کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ڈاکٹر ذاکر نائک کی توضیح و تشریح صحیح ہے؟ اور کیا کائنات کی تخلیق بڑے دھماکے کا نتیجہ ہے؟

Published on: Sep 12, 2007

جواب # 1020

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1020/ ب= 947/ ب


 

یہ تشریح کسی بھی جدید یا قدیم تفسیر میں ہماری نظر سے نہیں گذری۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات