متفرقات - تصوف

INDIA

سوال # 69716

مفتی صاحب، میں شادی شدہ ہوں میری عمر ۳۱/ سال ہے اور میں آج کل سعودی میں رہتا ہوں، میری پریشانی یہ ہے کہ مجھے وسوسے بہت آتے ہیں، اللہ سبحانہ وتعالی کے بارے میں برے خیالات آتے ہیں، میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں، میرا یقین کبھی نہیں ڈگمگاتا،الحمد للہ، لیکن کبھی کبھی میں وسوسہ میں مبتلا ہوکر اس خیالات کو دہرا دیتا ہوں یہ سوچ کر کہ میں آپنے آپ کو صحیح کروں، میں بہت ڈر گیا ہوں کہ کہیں میں نے کفر تو نہیں کر دیا، اور اگر میں نے کفر کردیا تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ پھر مجھے نکاح کرنی پڑے گا اپنی بیوی سے۔

Published on: Oct 22, 2016

جواب # 69716

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1363-1373/N=1/1438

(۱): آپ کے ذہن میں اللہ سبحانہ وتعالی کے بارے میں جو برے خیالات آتے ہیں، یہ ایمان کی علامت ہے، آپ ان سے پریشان نہ ہوں، بعض صحابہ کرام  کو بھی یہ حالت پیش آئی تھی، انہوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا تو آپ نے ایسے موقع پر اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم فرمایا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی ایسے موقع پر یہ کہہ لیا کرے: آمنتُ باللہ ورُسُلِہ(مسلم شریف :۷۹ مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ دیوبند )،اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مسنون یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرے (مرقاة المفاتیح، ۱: ۲۲۸، مطبوعہ: دار الکتب العلمیة بیروت)، پس دونوں کو جمع کرتے ہوئے یوں کہا جائے:أعوذ باللہ من الشیطان، آمنتُ باللہ ورُسُلہ، اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح کا وسوسہ آئے تو آدمی مزید (غور وفکر کرنے )سے باز آجائے(مسلم شریف۱:۷۹ مطبوعہ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)؛ لہٰذا آپ کو جب اللہ تعالی کے بارے میں کوئی نامناسب وسوسہ آئے تو اس میں اپنے آپ کو الجھانے سے بچیں، فوراً شیطان مردود سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہوئے اور اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا اقرار کرتے ہوئے یہ کہہ لیا کریں: أعوذ باللہ من الشیطان، آمنتُ باللہ ورُسُلہ، انشاء اللہ کچھ ہی عرصہ میں آپ کی یہ پریشانی دور ہوجائے گی، اللہ تعالی جلد از جلد آپ کو اس پریشانی سے نجات عطا فرمائیں ۔

(۲): اگر آپ نے ان خیالات کو قبول نہیں کیا؛ بلکہ دل سے برا ہی سمجھا جیسا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے تو آپ کے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑا؛ لہٰذا آپ کو تجدید ایمان یا نکاح کی کوئی ضرورت نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات