متفرقات - تصوف

India

سوال # 68747

گزشتہ کئی سالوں سے میں ہم جنس پرستی میں ملوث ہوں۔ میں نے تیس سے زائد لڑکوں کے ساتھ رومانس کیا ہے۔ ایک لڑکے کے ساتھ سیکس کروایا اور بہت زیادہ وقت گندی ویب سائٹوں کو دیکھنے اور چیٹنگ کرنے میں گزارتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میں نے بہت سارے لڑکوں کو اس گندے کام میں لگا دیا ہے جو کبھی بھی اس کام میں ملوث نہیں تھے۔ میں نے اس کو چھوڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔ میں نے روزہ رکھنے کی کوشش کی، تبلیغ جماعت میں چار ماہ کے لیے گیا ، بیعت وغیرہ کی ۔ اب میرا خیال ہے کہ میں ان چیزوں کاعادی ہوگیا ہوں اور میں اس کو چھوڑ نہیں سکتاہوں، میں اپنے آپ کو اس سے پاک کرنا چاہتاہوں اور دوسروں کو اس سے بچانا چاہتاہوں۔ اس کے لیے میرے پاس خود کشی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ کوئی بھی ماہر نفسیات اور طبیب نفسانی میرا علاج کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیوں کہ اس کا علاج ہی نہیں ہے، اور میں اپنی خواہشات پر قابو کرنے سے معذور ہوں۔ میں اللہ سے ایمان کی حالت میں ملنا چاہتاہوں۔براہ کرم بتائیں کہ کیا میں اپنے اوپر ہم جنسیت کی حدود مقرر کرسکتا ہوں؟ کیا میں خود کشی کرسکتاہوں؟ اگر نہیں، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟کیوں کہ ساری تدبیریں ناکام ہوچکی ہیں۔

Published on: Jul 25, 2016

جواب # 68747

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 784-150/D=10/1437

خواہش اور تمنا اتنی بلند کہ ”میں اللہ سے ایمان کی حالت میں ملنا چاہتا ہوں“ او رہمت و حوصلہ اس قدر پست کہ ناامیدی کے دہانے پر کھڑے خودکشی کے وساوس سے بے بس۔
بیعت ہونا کافی نہیں ہے کسی مصلح پر اعتقاد کرکے جیسا وہ بتائے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔
طبیب نفسانی علاج کرنے کے لئے کیوں نہیں تیار ہے؟ آپ نے علاج کرانے میں بھی پس ہمتی دکھلائی ہوگی۔ یہ آپ نے کیسے طے کرلیا کہ اس کا علاج نہیں ہے اور اپنے کو خواہشات پر قابو پانے سے معذور سمجھنا یہ سب ناامیدی اور پست ہمتی کی باتیں ہیں طالب راہ حق کو تو ہر مشکل برداشت کرنے کی ہمت رکھنی چاہئے ”اس کا علاج نہیں ہے“ یہ بات آپ نے غلط کہی اور اللہ تعالی سے بدگمانی کیا تنہائی میں اسے سوچئے کہ کس قدر غلط بات آپ نے کہی ہے آپ بہت بڑے ڈاکڑ یا حکیم نہیں ہیں کہ ایسے فیصلے صادر کرنے لگے، توبہ کیجئے بار بار توبہ کیجئے۔ اگلی تحریر میں اس توبہ کی اطلاع کیجئے، حدود مقرر کرنا آپ کا کام نہیں ہے شریعت کا کام ہے، حدود سے کیامراد ہے؟ سزا یا ہم جنسی کے عمل کی حد جو آپ کے لئے مباح ہوجائے۔ اگر علاج کرانا چاہتے ہیں تو اگلی تحریر میں اس تحریر کا حوالہ دے دیجئے گا۔ اور تین باتیں تحریر کیجئے:
(۱) اوپر جس بات سے توبہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے دو رکعت نفل پڑھ کر توبہ کرکے ہمیں اطلاع کیجئے۔ اور اپنی حرکت پر نادم او رثابت رہئے اور یہ طے کر لیجئے کہ دم نکل جائے مگر علاج کراکر ہی رہیں گے۔
(۲) حدود سے کیا مراد ہے اسے واضح کیجئے۔
(۳) آپ کا مشغلہ کیا ہے؟ عمر کیا ہے؟ اور شادی ہوئی ہے یا نہیں؟
نوٹ: اگلے ای میل پر راقم الحروف کا نام (مفتی زین الاسلام) لکھ دیجئے گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات