متفرقات - تصوف

India

سوال # 3470

میں تزکیہ نفس اور قلب کے لیے سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ کا درود پڑھتاہوں، پچھلے کچھ دنوں سے ہمارے کچھ بھائیوں میں سے چند افراد اس درود کے پڑھنے والے پر اور درود شریف پڑھنے پر اعتراض کرتے ہیں ، کیا ان کا اعتراض کرنا جائزہے ؟ کیا ہم یہ درود پڑھ سکتے ہیں؟براہ کرم، اس درود شریف کے متعلق ہماری اصلاح کریں۔ درود شریف: ?اللہم صلی علی سیدنا محمد و الصلاة علیک و علیہ السلام?۔ (۲) کلمہ شریف کا ذکر، مراقبہ ، درود شریف کا ورد ، لو گ مسجد میں بیٹھ کر ذکر اور مراقبہ کرنے سے روکتے ہیں، کیا ان کا روکنا درست ہے؟کچھ افراد خانقاہی اصلا حی کے اس طر یقہ کو مسجد میں بیٹھ کر ذکراور مراقبہ کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، ان کا یہ رویہ کیساہے ؟ (۳) کیا تبلیغی جماعت کے کام میں لگنے کے بعد کسی بھی شخص کو اپنے نفس اور قلب کی اصلاح /تزکیہ کے لیے کسی کامل فقیر سے تعلق قائم کرنے کے ضرورت ہے؟ (۴) نفس اور قلب کی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے ظاہری اور باطنی بیماریوں کا مکمل علاج کہاں ہوتاہے؟ ان بیماریوں کا علاج کون لوگ کرتے ہیں۔برا ہ کرم، ہماری رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Apr 12, 2008

جواب # 3470

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 404/ د= 359/ د


 


(۱) مذکور فی السوال درود شریف عربی قواعد کے لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔ احادیث میں جو درود شریف منقول ہیں ان میں سے کوئی درورد شریف پڑھ لیا کریں۔ زاد السعید حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی علیہ الرحمہ کی جمع کردہ درود شریف کی کتاب ہے اس میں سے کوئی پڑھ لیا کریں یا مختصر درورد شریف اللّٰھم صلی علی محمد النبي الأمي وعلی آلہ وبارک وسلم، یا صلی اللّٰہ علی النبي الأمي پڑھ لیا کریں۔


(۲) مسجد میں ذکر ومراقبہ کرنے سے اگر دوسرے مصلّیوں کو تشویش نہ ہوتی ہو یا ان کے معمولات میں خلل نہ پیدا ہوتا ہو، مضائقہ نہیں ہے۔ اس کا طریقہ کسی متبع سنت شیخ سے سیکھا ہو اور اور اس کی ہدایت کے مطابق ذکر و مراقبہ کریں تو اچھی بات ہے۔ لوگ کیوں منع کرتے ہیں؟ البتہ مراقبہ کی تعلیم کسی متبع شریعت شیخ سے حاصل کیے بغیر ازخود مراقبہ کرنا کبھی مضر ہوجاتا ہے اس لیے بدون شیخ کی تعلیم و اجازت کے نہیں کرنا چاہیے۔


(۳) کامل فقیر سے آپ کی کیا مراد ہے؟


(۴) ایسے اللہ والے کامل درویشوں کو تلاش کیا جاتا ہے ان کی صحبت میں رہ کر جہاں اس قسم کا فائدہ محسوس ہو:


(الف) اس کی صحبت میں رہنے سے آخرت اور امورِ آخرت کی طرف رغبت بڑھے۔


(ب) دنیا کی طرف سے بے رغبتی ہو۔


(ج) اعمال خیر کی طرف میلان پیدا ہو اورمعاصی سے نفرت ہونے لگے نیز وہ ولی کامل پابند شریعت و متبع سنت ہو اورخود اس نے کسی شیخ کامل کی صحبت میں رہ کر اصلاح و تزکیہ کررہا ہو، اس کے ہم عصر لوگ اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔ مقامی طور پر کسی صالح عالم دین سے مشورہ کرلیں وہ جن حضرات کے نام بتائیں ان میں سے جس سے آپ مناسبت محسوس کریں اس سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں۔ مناسبت کا اندازہ کرنے کے لیے خواہ ان کے پاس جوابی خط بھیجیں یا ان کی خدمت میں جاکر چند روز رہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات