متفرقات - تصوف

India

سوال # 2384

میں جالندھر پنجاب کا رہنے والا ہوں۔ میرے والد جناب مولوی نثار احمد قاسمی نے دیوبند سے سند فضیلت ۱۹۸۰ء میں حاصل کی تھی۔ میں نے بارہا اپنے والد سے حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی -رحمہ اللہ- کا ذکر سنا تھا۔ اب مجھے بھی تصوف سے دل چسپی پیدا ہورہی ہے۔ اس وقت میں بنگلور میں ایم ٹیک کررہا ہوں۔ اس سلسلے میں متردد ہوں کہ اپنا شیخ کسے بناوٴں۔ مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی میں کچھ کمی ہے، جیسے میرا کچھ کھوگیا ہے۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ میں نے کچھ لٹریچر پڑھا ہے، لیکن میں اس کو عملاً برتنا چاہتا ہوں۔ نیز میرے والد کی طبیعت اچھی نہیں ہے، ان کے لیے بھی دعا فرمائیں گے۔

Published on: Sep 16, 2007

جواب # 2384

بسم الله الرحمن الرحيم


(فتوی: 1281/996=ھ)


 


اللہ پاک آپ کو اور آپ کے والد صاحب کو سعادتِ دارین سے نوازے، مکارہ سے محفوظ رکھے، تمام امراض ظاہری و باطنی سے شفا عطا فرمائے، آمین۔ آپ کسی شیخِ کامل کے سلسلہ میں اپنے والد مدظلہ سے مشورہ کرلیں اور پھراستخارہٴ مسنونہ کے بعد ان سے بیعت ہوجائیں، اور بسلسلہٴ اصلاحِ نفس ان شیخ کامل کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، اللہ پاک آپ کو مقاصد حسنہ میں پوری کامیابی عطا فرمائے۔ اگر آپ کا ابھی قیام کچھ عرصہ بنگلور میں رہے تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں کچھ وقت نکال کر مدرسہ مفتاح العلوم میل وشارم مسجد خضر میں گذارلیں وہاں ان شاء اللہ حضرت مولانا قاری امیر حسن صاحب اور حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب افریقی مدظلہما کا قیام رہے گا اور بھی بہت سے اکابر حضرات وہاں تشریف رکھتے ہیں، دونوں حضرات میں سے جن کی طرف دل کا رجحان زیادہ ہو ان سے بیعت ہوجائیں، بنگلور سے مدراس جانے والی ریلوے لائن پر کاٹ پاڈی اسٹیشن ہے اس سے اترکر میل وشارم جانا ہوتا ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات