متفرقات - تصوف

India

سوال # 170804

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں اس شخص کے بارے میں کہ جو صرف علم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں تنخواہ کے قبیل سے یا ہدیتہ تحفوں کے قبیل سے مثلا اگر کوئی عالم کو کوئی زیادہ زیادہ ہدیہ دے دے اپنے بچے کو حافظ بنانے کی خوشی میں اس کو دیکھ کر وہ شخص حسد کرتا ہوں کہ امام صاحب کو بہت زیادہ پیسے دے دیے شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں کیا اس کی نماز ہو جائے گی اس امام کے پیچھے۔

Published on: May 29, 2019

جواب # 170804

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1097-920/H=09/1440



حسد ایک قلبی بیماری ہے جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی یہ آپ کو کیسے معلوم ہوگیا کہ اس مقتدی کے دل میں امام صاحب کی طرف سے حسد ہے؟ بہت زیادہ پیسے ملنے کا اظہار تو بجائے حسد کے خوشی ظاہر کرنے کے لئے بھی تو ممکن ہے شریعت مطہرہ میں مسلمانوں سے اچھا گمان رکھنے کا حکم ہے اس لئے یہ تاویل کرنی چاہئے کہ اس مقتدی نے بطور اظہار مسرت کے ایسی بات کہی ہوگی نماز بہر صورت اس مقتدی کی امام صاحب کی اقتداء میں درست ہو جاتی ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات