متفرقات - تصوف

India

سوال # 165048

(۱) ہمارے گاوٴں میں ایک پیر تھے ، ان کا انتقال ہو گیا۔ تو کیا میں ان کے مرنے کے بعد ان کا مرید بن سکتا ہوں؟
(۲) اور میرے ماں باپ کو حق ہے کہ مجھے زبردستی کسی کا مرید بنائیں۔
(۳) اس پیر کی مجلس میں بغیر دعوت کے کھاناکھانا جائز ہے؟

Published on: Sep 11, 2018

جواب # 165048

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1414-114T/M=12/1439



(۱) اگر پیر صاحب کی حیات میں آپ مرید نہیں بن سکے تو ان کے انتقال کے بعد مرید بننا فضول ہے، مرید بننا اصلاح نفس کے لئے ہوتا ہے جب پیر صاحب وفات پاگئے تو وہ اب کس طرح اصلاح کریں گے؟ اس لئے آپ کسی دوسرے باحیات پیر و مرشد صاحب نسبت و متبع سنت بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کی کوشش کریں۔



(۲) زبردستی کرنا درست نہیں۔



(۳) اگر مجلس میں موجود سبھی لوگوں کو کھانے کی اجازت ہوتی ہے تو باضابطہ دعوت کی ضرورت نہیں، صراحةً یا دلالةً اجازت کافی ہے لیکن جب پیر صاحب کا انتقال ہوگیا تو اب ان کی مجلس کس طرح کی ہوتی ہے اور کس طرح کا کھانا مراد ہے؟ اس کو واضح کرکے سوال کرنا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات