متفرقات - تصوف

India

سوال # 161046

مولانا میں بھیونڈی شہر مہاراشٹر میں پچھلے پانچ سالوں سے رہتا ہوں، ۲۰۰۲ میں بدلاپور جو بھیونڈی سے قریبا" ۳۲ کلو میٹر دور ہے وہاں نیم سرکاری پرمننٹ جاب کرتا ہوں مقروض ہوں لیکن تنخواہ اچھی ہے ، ۲۰۰۲ سے ۲۰۰۹ تک بدلاپور میں ہی رہا، لیکن جب بچوں کی تعلیم کا سوال پیدا ہوا تو بھیونڈی شفٹ ہوگیا.کچھ رشتہ دار یہاں رہتے ہیں اور مرضی کی اسلامی اسکول یہاں موجود تھی، اسلامی اعتبار سے میری نظر میں بدلاپور کا ماحول بے انتہا خراب نظر آتا ہے ، نوجوانوں میں بے انتہا جدت پسندی اور ساری برائیاں عام نظر آتی ہیں، لیکن اتنی دور بسنے کی وجہ سے (یعنی میرا آنا جانا ۶۵ کلو میٹر روز کا ہوتا ہے جس میں آٹو بس ٹرین. کل ملا کر ۲ سے ۲.۳۰ گھنٹے ایک طرف کے یعنی دونوں طرف کے سفر میں ۴-۵ گھنٹے لگتے ہیں، نوکری کا ۶ گھنٹہ الگ اس کے علاوہ گھر پر ملا کام الگ، ابھی میری عمر ۴۰ سال ہے پچھلے دو تین سالوں سے ایسی تھکاوٹ ہوتی ہے کہ پوچھئے مت۔ ادھ مرا اپنے گھر واپس لوٹ آتا ہوں، آنے کے ساتھ کھا کر ۳ بجے سوتا ہوں جب جاگ جاتا ہوں تب بھی اس حالت میں نہیں رہتا کہ کوئی محنت والا کام کروں،کسی کام کو کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو پاتی، یہی وجہ ہے کہ دین سے ایکدم دور ہو چلا ہوں.ایک بھی نماز کا اہتمام نہیں ہوتا، روزے رکھ نہیں پاتا، اور دوسرے فرائض تو بہت بعد کی بات ہیں۔ سبھی دوستوں رشتہ داروں حتیٰ کہ والد اور بیوی بھی کا یہی کہنا ہے کہ بھیونڈی چھوڑ کر اس شہر میں یا نزدیک بس جائیں وہ سب میری حالت کو دیکھ کر کہتے ہیں، کسی بھی اسکول میں بچوں کو ڈال دیں گے ، لیکن میں بچوں کی تربیت پر اثر کرنا نہیں چاہتا، وہ شہر اور اطراف کا ماحول اتنا خراب ہے کہ وہاں جانا بچوں کی تربیت کے لئے بڑے رسک والی بات ہوگی.دوسرے میرا گھربھی بہت پابند نہیں ہے کہ ساری برائیوں میں سے ہمیشہ بچ کر نکلیں گے ،میں انہیں سمجھا ہی نہیں پاتا کہ بچوں کی صحیح تربیت سب سے بڑی چیز ہے ،انہیں کے لئے میں اتنی تکلیف اٹھا رہا ہوں، کیونکہ بدلے میں مجھے یہ جواب ملتا ہے کہ کیا وہاں مسلمان نہیں رہتے یا کیا وہاں کے سبھی مسلمان بگڑے ہوئے ہیں...وغیرہ وغیرہ..
ایک صورت یہ بھی نکل سکتی ہے کہ میں نوکری چھوڑ نئی نوکری یہاں ڈھونڈوں، اس کے لئے بہت کوشش کر چکا ہوں لیکن نا ممکن سا لگتا ہے ۔
. جناب ۱. میرا سوال یہ ہے کہ میں مذہبی معاملات کی پابندی کیسے کروں؟
۲. کیا کسی دیو بندی شیخ سے بھیونڈی میں بعیت لوں؟ اگر ہاں تو آپ کی نظر میں بھیونڈی یا اطراف میں کوئی شخص ہوں تو بتائے ۔
۳. تیسرا سوال یہ ہے کہ کوئی وظیفہ ہوتو بتائے کہ میرا اپنے شہر میں تبادلہ ہو؟
۴. یہ بھی بتائے کیا میرا قدم بچوں کی تربیت کے سلسلے میں صحیح ہے ؟

Published on: May 15, 2018

جواب # 161046

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:928-795/N=8/1439



(۱):بچوں کی دینی تربیت کے ساتھ اپنے آپ کو بھی دین پر کاربند رکھنا ضروری ہے؛ اس لیے محض بچوں کی بچوں کی تربیت کے نام پر فرائض میں کوتاہی کرناہرگز روا نہ ہوگا، اس کے لیے آپ کو ہر ممکن کوشش اور تدبیر کرنی چاہیے۔



(۲): جی ہاں! اگر آپ کسی متبع شریعت وسنت شیخ کامل سے اصلاحی تعلق قائم کرتے ہیں تو بہت بہتر ہے، اس سے آپ کو دین پر چلنے میں بہت مدد ملے گی اور گناہوں سے بچنا آسان ہوگا بہ شرطیکہ آپ شیخ سے رسمی تعلق نہ رکھیں، واقعی طور پر ان سے حسب اصول اصلاحی استفادہ کریں۔ میں بھیونڈی میں کسی شیخ کی رہنمائی نہیں کرسکتا، آپ خود اہل حق اور دین دار لوگوں سے مل کر کوئی متبع شریعت وسنت شیخ کامل تلاش کریں؛ البتہ میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو کوئی متبع شریعت وسنت شیخ کامل تک پہنچادیں اور آپ کو ان سے بھرپور استفادہ کی توفیق بخشیں۔



(۳):آپ کسی شیخ سے منسلک ہوکر انہی سے اس کا وظیفہ دریافت کریں؛ البتہ میں آپ کے لیے بھیونڈی ہی میں بہتر ملازمت کی اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں؛ تاکہ آپ کے لیے بچوں کی دینی تربیت کے ساتھ خود کو بھی دین پر کار بند رکھنا آسان ہوجائے۔



(۴): بچوں کی دینی تربیت بہرحال اہم وضروری ہے؛ لیکن خود کو بہت زیادہ مشقت میں ڈالنا یا بچوں کی تربیت کے نام پر فرائض میں کوتاہی کرنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالی آپ کے لیے کوئی ایسی صورت پیدا فرمادیں جس میں آپ بچوں کی دینی تربیت بھی کرسکیں اور آپ خود بھی بہت زیادہ مشقت سے بچتے ہوئے دین پر کاربند ہوسکیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات