متفرقات - تصوف

India

سوال # 156767

میرا سوال یہ ہے کہ کیا تصوف کی لائن میں بیعت اگر کسی سے کرنی ہو تو جس سے بیعت کی جارہی ہو کیا ان کا کسی ادارے سے فارغ ہونا ضروری ہے؟

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 156767

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:308-285/L=3/1439



 شیخ کا کسی ادارے سے فارغ ہونا ضروری نہیں ؛البتہ اس کا کتاب وسنت کے ضروری علم سے واقف ہونا اور عقائدِ حقہ کا حامل ہونا ضروری ہے، شیخ کے ضروری اوصاف یہ ہیں:



 (۱) کتاب وسنت کا ضروری علم رکھتا ہو خواہ اساتذہ کرام سے پڑھ کر یا علمائے کرام کی صحبت میں رہ کر، یعنی: صحیح وضروری علم دین اور عقائد حقہ کا حامل ہو۔ (۲) عدالت اور تقوی میں پختہ ہو، بدعات اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو۔ (۳) دنیا سے بے رغبت ہو اور آخرت سے رغبت رکھتا ہو، یعنی: حب جاہ، حب مال، ریا، تکبر، حسد، بغض، کینہ وغیرہ اخلاق رذیلہ کی اصلاح کراچکا ہو۔ اورفرائض اور واجبات کے علاوہ طاعات موٴکدہ اور اذکار منقولہ کا اہتمام رکھتا ہو۔ (۴) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو، ان چاروں کا حاصل یہ ہے کہ ظاہر وباطن ہر اعتبار سے متبع شریعت وسنت ہو۔ (۵) کسی متبع شریعت سنت اور صاحب نسبت شیخ کامل سے اصلاحی تعلق قائم کرکے ان سے سلوک واحسان کی منزلیں طے کی ہوں اور اس شیخ کامل نے اس کے حالات سے مطمئن ہوکر اس پر اعتماد کیا ہو اور اسے خلافت سے نوازا ہو۔ (۶) اور خلافت کے بعد وہ دینی تنزلی وانحطاط کا شکار نہ ہو؛ بلکہ نفس کی نگرانی کے ساتھ محنت ومجاہدات کے ذریعے مزید ترقیات میں کوشاں رہتا ہو۔ پس جس شخص میں یہ امور پائے جائیں، اسے شیخ طریقت بنانا اور اس سے بیعت ہوکر سلوک واحسان کی منزلیں طے کرنا درست ہے (فتاوی محمودیہ جدید ڈابھیل ۴: ۳۵۲-۳۵۹، سوال: ۱۴۹۰-۱۴۹۵) اور ایسے شیخ سے اگر اخلاص اور جذبہ اصلاح کے ساتھ اصلاحی تعلق قائم کیا جائے اوراستفادہ کی شرطوں کے ساتھ استفادہ کی کوشش کی جائے توانشاء اللہ ضرور نفع ہوگا اور سلوک واحسان کی منزلیں بآسانی طے ہوجائیں گے۔ مزید تفصیل کے لیے رسالہ ”تسہیل قصد السبیل“ تعلیم الدین، شریعت وطریقت مولفہ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کا مطالعہ فرمالیں، یا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کا رسالہ ”القول الجمیل“ پڑھ لیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات