متفرقات - تصوف

Pakistan

سوال # 154920

میرا تعلق نقشبندیہ مجددیہ سلسلہ سے ہے ۔ میرا سوال ہے ۔ واصل باللہ سے کیا مراد ہے ؟ کیا زندگی میں بھی اللہ سے وصال ہو سکتا ہے ؟ اگر ہو سکتا ہے تو کیسے ؟ کیا اللہ کی تجلی کسی وجودی شکل میں نظر آسکتی ہے اور کیا اس سے وصل ہو سکتا ہے ؟ حضرت مجدد الف ثانی کے مکتوبات میں وصل عریاں کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان سے کیا مراد ہے ؟
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Oct 31, 2017

جواب # 154920

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:15-13/B=2/1439



واصل باللہ کے معنی اللہ سے ملنے والا، اللہ تک پہنچنے والا، خدا رسیدہ ، ان سب سے مراد اللہ کا مقرب ہونا ہے، اللہ کا مقرب ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کا محبوب بندہ ہوجاتا ہے، اور نیک اعمال، اتباع سنت، اللہ اور اس کے رسول کی عظمت اور محبت کا احساس کرتے ہوئے جس قدر اس کی اطاعت خلوص کے ساتھ کی جائے گی اللہ کا قرب ہوتا جائے گا، یعنی اللہ کا محبوب بندہ ہوتا جائے گا۔ ظاہری اعتبار سے اللہ کے ساتھ کسی کا وصال زندگی میں نہ کبھی ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ اللہ کی تجلی دیکھنے کی طاقت انسان میں نہیں ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کو تھوڑی سی جھلک اللہ نے دکھائی تو وہ بیہوش ہوکر گرگئے اوراس کی تاب نہ لاسکے، ہم انسان کا اس سے وصل حالت حیات میں نہیں ہوسکتا، کسی اللہ کے بندے کو اس کا کشف ہوجائے وہ اور بات ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات