متفرقات - تصوف

Pakistan

سوال # 153822

ذاتی زندگی میں پیر کی کیا اہمیت ہے؟کیوں کہ میں نے سناہے کہ دیوبند کے مطابق کسی کا بیعت ہوئے بغیر انتقال ہوجاتاہے تو اس کے انتقال کو غیر مسلم کے انتقال کی طرح سمجھا جاتاہے۔

Published on: Sep 19, 2017

جواب # 153822

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1254-1300/sd=12/1438



من مات ولیس في عنقہ بیعة، مات میتة الجاہلیة ممکن ہے کہ اس حدیث سے بعض لوگوں کو شبہ ہوگیا ہو کہ یہاں بیعت سے تصوف کی بیعت مراد ہے؛ لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے، حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیس في عنقہ بیعة کنایہ ہے خروج عن طاعة الامام سے اور یہ محقق ہے وقت تحقق امام کے اور جب امام نہ ہو، تو اس معنی کر ولیس فی عنقہ بیعة صادق نہیں آتا۔ (امداد الفتاوی: ۵/۱۰۱) اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے جو سنا ہے، وہ صحیح نہیں ہے؛ ہاں اخلاقِ فاضلہ پیدا کرنے اور اخلاقِ رذیلہ کو دور کرنے کے لیے کسی متبع سنت اللہ والے سے بیعت ہونا اور ذاتی زندگی میں نگراں مقرر کرنا اسلاف کا معمول ہے، یہ اللہ تک پہنچنے کا موٴثر ذریعہ ہے؛ لیکن مسلمان کی نجات بیعت پر موقوف نہیں ہے، اصل زندگی میں احکام کا اتباع اور ظاہر وباطن کی اصلاح ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات