متفرقات - تصوف

kashmir

سوال # 147590

میں پانچ سالو ں سے گناہ کا عادی ہوں ، میں توبہ کرتاہوں ، پھر ٹوٹ جاتی ہے ، اب میں پریشان ہوں کہ ایمان پر میری موت ہوگی یا نہیں؟

Published on: Jan 5, 2017

جواب # 147590

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 370-302/H=4/1438



 



سچی پکی توبہ کریں اور اتنا پختہ عزم کرلیں کہ چاہے جان چلی جائے مگر گناہ نہ کروں گا اگر سوئے اتفاق کہ پھر ہوجائے تو یہ ارادہ کرلیں کہ اگر پھر گناہ ہوگیا تو بیس رکعات نفل صلاة التوبہ پڑھوں گا اور آٹھ دن کی اپنی کل آمدنی غرباء فقراء مساجد ومدارس پر خرچ کردوں گا اور جب تک یہ دونوں کام نہ کرلوں گا کھانا نہ کھاوٴں گا اگر اس کے بعد اتفاقاً پھر گناہ ہوجائے تو پھر ایسا ہی کروں گا، اگر اخلاص کے ساتھ سچے دل سے اسی طرح کرتے رہیں گے تو ان شاء اللہ گناہ بھی چھوٹ جائے گا اور ایمان پر خاتمہ بھی نصیب ہوگا، گناہ چھوڑنے اور سچی پکی توبہ پر جمنے میں ہمت کی ضرورت ہے، اگر آدمی ہمت ہی نہ کرے تو گناہ نہیں چھوٹتا، نماز ذکر تلاوت اورادائے حقوق کی پابندی کو لازم پکڑلیں (الف) فضائل اعمال (ب) فضائل صدقات (ج) بہشتی زیور (د) تعلیم الاسلام کے پڑھنے سننے سنانے اور مطالعہ کا خصوص اہتمام کریں اور جو ہدایات ان کتابوں میں ہیں ان کو حرز جان بنائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات