متفرقات - تصوف

Bangladesh

سوال # 145480

مجھے کافی عرصہ سے ذہنی مرض (obsessive compulsive disorder) لاحق ہے، میں اپنے دماغ میں آئے ہوئے خیالات کو روک نہیں سکتا، مجھے نماز کے دوران توہین آمیز خیالات اور وہم بہت زیادہ آتے ہیں، مایوسی ہوتی ہے، سوچتا ہوں کہ ایمان سے محروم نہ ہو گیا ہوں، میرے ابو کے ساتھ بھی یہی پریشانی ہے، وہ بھی نماز نہیں پڑھتے لیکن اگر دین کی بات کی جائے تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، یہی میرے ساتھ بھی ہے، خیالات بہت خراب ہیں اور ذہن پر سوار ہے جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں، ایک معالج نے روحانی مرض بتایا ہے، سوچتا ہوں اللہ کو کیا جواب دوں گا، میرے اور میرے ابو کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں اور مشورہ بھی دیں، وظیفہ بھی بتائیں کہ کس طرح اللہ مجھے معاف فرمادے۔
مجھے حقیقی ایمان کی دولت نصیب ہو جائے اور اللہ بھی راضی ہو جائے اور میرا دماغی مرض ختم ہو جائے، بہت بھلانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی، خصوصاً نماز میں غلیظ خیالات کثرت سے آتے ہیں، اگر نماز چھوڑتا ہوں تو پھر خیالات اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں نماز نہ پڑھنے سے دل پر الگ گناہ کا بوجھ رہتا ہے اور مزید مایوسی ہوتی ہے ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 22, 2016

جواب # 145480

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 062-102/L=2/1438



اس طرح کے وساوس کا آنا برا نہیں ہے، چور وہیں داخل ہوتا ہے جہاں مال ہو، شیطان بھی وسوسہ اسی کو ڈالتا ہے جس کے پاس ایمان ہو اس لیے اس طرح کے وساوس کا آنا برا نہیں یہ آپ کے مومن ہونے کی علامت ہے، البتہ آپ اس کے مقتضاء پر عمل نہ کریں، اور نماز چھوڑنا ہرگز ترک نہ کریں لاحول کی کثرت کریں اور یہ دعا پڑھتے رہیں: یا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دینک۔ ان شاء اللہ اس طرح کے وساوس آنے بند ہو جائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات