عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 156476

(۱) حضرت مفتی صاحب! ایک وقت میں ایک ہی امام کی اتباع کرنے کے دلائل کیا ہیں؟ بتائیں۔
(۲) ایک ہی وقت میں چاروں اماموں کی اتباع کیوں نہیں کرسکتے؟ شکریہ

Published on: Nov 21, 2017

جواب # 156476

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 327-276/H=2/1439



(۱) قال اللہ تعالی ولا تتبع الہویٰ فیضلک عن سبیل اللہ (سورة لقمان: پارہ ۲۱)



(۲) اکثر وبیشتر مسائل میں تو تمام دنیا کے مسلمان حضرات ائمہٴ مجتہدین امام اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد ابن حنبل رحمہم اللہ تعالی رحمة واسعہ کی اتباع کرتے ہیں مثلاً پانچ وقت کی فرض نماز ہے، رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں، حج زکات فرض ہے ان کی فرضیت میں چاروں اماموں میں سے کسی کا اختلاف نہیں، قرآن کریم حدیث شریف اجماع امت، قیاس صحیح برحق ہیں چاروں یہی کہتے ہیں فرضوں کی تعداد رکعات میں ایک ہی وقت میں چاروں ائمہ کے متبعین متفق و متحد ہوکر عمل کرتے ہیں البتہ چند مسائل بے شک ایسے ضرور ہیں کہ جن میں بیک وقت چاروں کا اتباع نہیں ہوسکتا جیسے ناسخ منسوخ میں اختلاف ہو جائے۔ کسی استنباطی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے وغیرہ ان جیسے مسائل میں ایک ہی وقت میں چاروں ائمہ حضرات رحمہم اللہ کے اتباع کی کوئی شکل نہیں ہے ”چند اہم عصری مسائل“ جلد اول میں بعنوان ”ایک ہی فقہی مسلک کی پیروی کیوں ضروری ہے“ (از ص: ۳۱تا ص: ۳۷) ۔



اس مسئلہ پر مفصل مدلل بحث ہے یہ کتاب دارالعلوم کی ویب سائٹ پر موجود اس کو اطمینان سے ملاحظہ کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات