عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 155948

میرا سوال یہ ہے کہ مسلک احناف سنتون پر عمل کیوں نہیں کرتا ہے ؟ سنت کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت کیوں نہیں ہے ، مثال کے طور پر اللہ کے رسول کی صحیح حدیث ہے کہ فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی نماز نہیں پر احناف کا اس پر عمل نہیں ہے ، فجر کی اقامت کے بعد بھی لوگ سنت پڑھتے رہتے ہیں، مانا کہ فجر کی سنتوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے لیکن فرض نماز سے زیادہ بھی نہیں ہے ، ایسی کتنی ساری سنتیں ہیں جس کا احناف کھلم کھلا رد کرتے ہیں۔ برائے کرم اس کی تفصیل سے تشفی بخش جواب دیں۔

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 155948

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:207-28T/L=3/1439



یہ آپ کو کس نے بتادیا کہ احناف سنتوں پر عمل نہیں کرتے، احناف کے نزدیک تو مراسیل احادیث بھی بشرائط حجت ہوتے ہیں اور مراسیل کے مقابلے میں احناف ان مسائل میں اپنی رائے ترک کردیتے ہیں جبکہ دیگر ائمہ کے نزدیک یہ حجت نہیں، جہاں تک درج ذیل مسئلہ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ



نکہ احادیث میں فجر کی سنت کی بڑی تاکید آئی ہے؛ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: ”أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن علی شئی من النوافل أشد معاھدة منہ علی رکعتین قبل الصبح“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنت کا جتنا اہتمام کرتے تھے اتنا اہتمام کسی نفل وسنت نمازوں کے لیے نہیں کرتے تھے مسلم (۱/ ۲۵۱) ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ”رکعتا الفجر خیر من الدنیا ومافیھا“ (مسلم ۱/ ۲۵۱) ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں ”أنہ (النبی) قال فی شان الرکعتین عند طلوع الفجر لھماأحب إلی من الدنیا جمیعا“ ً (۱/ ۲۵۱) نیز مسند احمد اور ابو داو ‘ د میں صحیح سندکے ساتھ روایت ہے ”لا تدعوا رکعتی الفجر وإن طردتکم الخیل“ (آثار السنن ص: ۱۸۰) فجر کی دور رکعت سنت مت چھوڑ نا اگر چہ گھوڑے تم کو روند ڈالے۔ فجر کی سنت کی نہایت تاکید اور جماعت کے بعد پڑھنے کی ممانعت کے سبب امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہمااللہ نے



جب تک جماعت کے ملنے کی امید ہو سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے، یہی عمل بہت سے جلیل القدر صحابہ وتابعین سے صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے، ذیل میں ان آثار کو ذکر کیا جاتا ہے:



 (۱) عبد اللہ بن ابو موسیفرماتے ہیں: ہمارے یہاں حضرت ابن مسعود اس وقت آئے جت امام فجر کی نماز پڑھا رہے تھے تو انہوں نے ستون کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی ؛کیونکہ وہ فجر کی دو رکعت سنت پڑھے ہوئے نہیں تھے۔ عن عبد اللہ بن ابی موسی قال جاء نا ابی مسعود والامام یصلی الصبح فصلی رکعتین إلی ساریة ولم یکن صلی رکعتی الفجر․ اس کو طبرانی نے روایت کی ہے اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔ قال الھیثمی فی مجمع الزوائد ج: ۲ص: ۷۵رواہ الطبرانی رجالہ موٴثقون: ط: القدسی: القاہرہ۔         



 (۲) حضرت نافع فرماتے ہیں میں نے ابن عمر کو فجر کی نماز کے لئے بیدار کیا جب کہ نماز کھڑی ہو چکی تھی تو انہوں نے اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھی (طحاوی شریف۱/۲۵۶) میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایت موجود ہے عن نافع قال أیقظت ابن عمر لصلاة الفجر وقد أقیمت الصلاةفقام فصلی رکعتین۔



(۳) ابو عثمان فرماتے ہیں ابن عباس اس وقت ہمارے یہاں تشریف لائے جب امام فجر کی نماز پڑھا رہے تھے اور وہ دو رکعت پڑھے ہوئے نہیں تھے تو امام کے پیچھے دو رکعت پڑھی پھر جماعت میں شریک ہوئے صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث (طحاوی شریف ۱/۲۵۶) میں موجود ہے عن أبی عثمان اللأنصاری قال جاء ابن عباس والإمام فی صلاة الغداة ولم یکن صلی الرکعتین فصلی عبد اللہ بن عباس رکعتین خلف الإمام ثم دخل معھم․ یہی وہ عبد اللہ بن عباس ہیں جن سے مستدرک حاکم (۱/۴۵۱ط: دار الکتب العلمیة) میں روایت ہے کہ نماز کھڑی ہوگئی تھی تو میں دو رکعت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا تو مجھ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھینچ کر فرمایا کہ تم فجر کی چار رکعت نماز پڑھ رہے ہو (أقیمت الصلاة فقمت أصلی الرکعتین فجذبنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أتصلی الصبح أربعاً) اس سے پتہ چلا کہ صف میں گھس کر نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ورنہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی منع فرمایا وہ کیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوئے جماعت ہوتے وقت سنت پڑھیں گے ؟ معلوم ہوا ممانعت والی حدیثوں کا وہ مطلب نہیں ہیں جو غیر مقلدین حضرات سمجھ رہے ہیں۔



(۴) حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ وہ مسجد میں اس حالت میں داخل ہوتے تھے کہ لوگ فجر کی نماز میں صفوں میں ہوتے تھے تووہ مسجد کے گوشے میں دو رکعت سنت نماز پڑھتے تھے پھر جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ (طحاوی شریف ۱/۲۵۶) عن أبی الدرداء أنہ کان یدخل المسجد والناس صفوف فی صلاة الفجر فیصلی الرکعتین فی ناحیة المسجد ثم یدخل مع القوم فی الصلاة ۔



(۵) حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ ابن مسعود، ابو موسی اشعری سعید بن العاص کے پا س سے نکلے اس وقت جب نماز کھڑی ہو چکی تھی تو ابن مسعود نے دو رکعت پڑھی پھر جماعت میں شریک ہوئے اور ابو موسی اشعری صف میں داخل ہوئے مصنف ابن ابن شیبہ میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایت موجود ہے۔



(۶) ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں ہم عمر کے پاس فجر کی دورکعت سنت پڑھنے سے پہلے جاتے تھے وہ جماعت کی نماز میں ہوتے تھے تو ہم مسجد کے آخر حصے میں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے تھے پھر جماعت میں شریک ہوتے تھے طحاوی شریف میں سند حسن کے ساتھ یہ روایت موجود ہے عن أبی عثمان النھدی قال: کنا نأتی عمر بن الخطاب قبل ان نصلی الرکعتین قبل الصبح وھو فی الصلاة فنصلی الرکعتین فی آخر المسجد ثم ندخل مع القوم فی صلاتھم رواہ الطحاوی (۱/۲۵۶اسنادہ حسن) ․ حضرت ابو عثمان نہدی جو کہ مخضرمین میں سے تھے فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے زمانے میں مسجد میں دو رکعت فجر کی سنت پڑھنے سے پہلے اس حال میں آتے کہ حضرت عمر نماز میں ہوتے تو ہم مسجد کے آخری حصے میں دو رکعت پڑھ کر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہوتے۔



(۷) عن الحسن أنہ کان یقول إذا دخلت المسجد ولم تصلی رکعتی الفجر فصلھما وإن کان الإمام یصلی ثم ادخل مع الإمام․ رواہ الطحاوی (۱/۲۵۶باسناد صحیح) ․ حضرت حسن بصری فرمایا کرتے تھے کہ تم جب مسجد میں داخل ہو اس حال میں کہ تم نے دو رکعت نہیں پڑھی تو دو رکعت پڑھ لو اگر چہ امام نماز پڑھا رہے ہو پھر امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاؤ۔



 (۸) حضرت مسروق لوگوں کے پاس (مسجد میں) اس وقت آتے تھے جب وہ نماز میں ہوتے تھے اور وہ فجر کی سنت پڑھے ہوئے نہیں ہوتے تھے تو مسجد میں دو رکعت نماز پڑھتے پھر جماعت میں شریک ہو جاتے تھے: کان مسروق یجیئی إلی القوم وھم فی الصلاة و لم یکن رکع رکعتی الفجر فیصلی الرکعتین فی المسجد ثم یدخل مع القوم فی صلاتھم (رواہ الطحاوی۱/۲۵۶اسنادہ صحیح) ․



 (۹) حضرت زید بن اسلم فر ماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر مسجد میں اس وقت آئے جب امام فجر کی نماز پڑھا رہے تھے اور وہ فجر کی سنت پڑھے ہو ئے نہیں تھے تو (اپنی بہن اور حضور کی زوجہ) حضرت حفصہ کے حجرے میں سنت پڑھی پھر امام کے ساتھ نماز پڑھی: عن زید بن اسلم عن ابن عمر أنہ جاء والإمام یصلی الصبح ولم یکن صلی الرکعتین قبل صلوة الصبح فصلی ھما فی حجرة حفصة ثم أنہ صلی مع الإمام (طحاوی شریف۱/۲۵۶)



 (۱۰) عن علی قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی الرکعتین عند الإقامة․ (اعلاء السنن ) ․ حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے، اس حدیث میں اگر چہ حارث اعور جو کہ متکلم فیہ ہیں لیکن ضعیف حدیث اگر معمول بہ ہو او راس کی تائید صحابہ سے ہو رہی ہو تو وہ قابل استدلال ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ حدیث جس میں فجر کی سنت سے ممانعت وارد ہے اس سے مراد گھس کر پڑھنے سے ممانعت ہے (جیسا کہ سابق میں گذرچکا ہے) نہ کہ باہر یا مسجد کے پچھلے حصے میں سنت پڑھنے سے، اس وضاحت سے یہ بات بخوبی معلوم ہو گئی کہ ہم نے حدیث کی مخالفت نہیں کی، یہ آپ کو کسی نے غلط فہمی میں ڈالا ہے، اگر آپ دیگر مسائل کے بارے میں بھی تحقیق کریں گے توان شاء اللہ مسلکِ احناف کو قرآن وسنت کے قریب پائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات