عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

Pakistan

سوال # 154286

سوال: ایک غیر مقلد تقلید کے رد میں ابو زید قاضی رحہ کا قول پیش کرتا ہے ۔ اس کی وضاحت طلب ہے ۔ ابوزید قاضی عبیداللہ الابوسی حنفی رحمہ الله نے مقلد کی مذمت کرتے ہوئے کہاتھا، تقلید کا ماحصل یہ ہے کہ مقلد اپنے آپ کو جانوروں چوپایوں کے ساتھ ملادیتا ہے ..اگر مقلد نے اپنے آپ کو جانور اس لئے بنالیا ہے کہ وہ عقل وشعور سے پیدل ہے تو اس کا علاج کرانا چاہیے ۔تقویم الادلہ فی اصول الفقہ،صفحہ:390

Published on: Oct 2, 2017

جواب # 154286

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1388-1355/N=1/1439



قاضی ابو زید دبوسینے تقویم الادلہ میں جس تقلید کی مذمت فرمائی ہے،اس سے مراد وہ تقلید ہے جو کسی غور وفکر کے بغیر محض آنکھ بند کرکے کی جائے جیسا کہ کفار ومشرکین اپنے آبا واجداد کی تقلید کرتے تھے؛ کیوں کہ قاضی صاحب نے یہ بات ان بعض حشویہ کی تردید کرتے ہوئے فرمائی ہے جو کفار ومشرکین والی اندھی تقلید کو صحیح ودرست قرار دیتے ہیں؛ جب کہ جمہور اہل علم کا متفقہ قول یہ نقل فرمایا کہ ایسی اندھی تقلید باطل وغیر معتبر ہے ؛چناں چہ قاضی صاحب نے آگے تقلید کی چار قسمیں کی ہیں اور ان میں سے ۳/ قسموں کو صحیح قرار دیا ؛ کیوں کہ ان میں کسی نہ کسی درجے میں عقل کا استعمال اور غور وفکر کا عمل پایا جاتا ہے اور چوتھی کو باطل قرار دیا ؛ کیوں کہ وہ محض اندھی تقلید ہے ۔اور چوتھی قسم یہ ذکر فرمائی : تصدیق الأبناء الآباء والأصاغر الأکابر فی الدنیا: یعنی: اولاد کا اپنے آبا واجداد کی اور دنیوی اعتبار سے جو چھوٹے ہوں ، ان کا اپنے سے بڑے لوگوں کی باتیں آنکھ بند کرکے ماننا اور ان کی تصدیق کرنا۔ پس جو غیر مقلد مطلق تقلید یا ائمہ اربعہ کے متبعین میں پائی جانے والی تقلید کے رد میں قاضی ابو زید دبوسیکی عبارت پیش کرتا ہے ، وہ دجل وفریب سے کام لے رہا ہے اور صاحب کلام کی صحیح مراد سے ہٹ کر من مانا مطلب گڑھ رہا ہے ، اللہ تعالی اسے ہدایت عطا فرمائیں۔ اور جو لوگ ایسے شخص کی باتوں سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور کتاب کا سیاق وسباق دیکھ کر صحیح بات سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ بھی قابل افسوس ہیں۔ ذیل میں قاضی ابو زید دبوسیکی تقویم سے ضروری عبارت نقل کی جاتی ہے، وہ اچھی طرح ملاحظہ کرلی جائے:



فالمقلد في حاصل أمرہ ملحق نفسہ بالبھائم فی اتباع الأولاد الأمھات علی مناھجھا بلا تمییز فإن ألحق نفسہ بھا لفقدہ آلة التمییز فمعذور فیداوی ولا یناظر، وإن ألحقہ بھا ومعہ آلة التمییز فالسیف أولی حتی یقبل علی الآلة فیستعملھا ویجیب خطاب اللہ تعالی المفترض طاعتہ، وقد ذم اللہ تعالی الکفرة علی قولھم: ”اتبعنا أکابرنا وسلفنا“ذما لا یخفی علی من آمن باللہ وأقر بالکتاب الخ (تقویم الأدلة في أصول الفقہ للدبوسي، باب القول في أقسام التقلید الخ، ص:۳۹۰، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، ثم التقلید ینقسم إلی أربعة أقسام: تصدیق الأمة صاحب الوحي، وتصدیق العالم صائب الرأي ونظر في باب الفقہ ظھر سبقہ علی أقرانہ من الفقہاء وتصدیق العامة علماء عصرھم وتصدیق الأبناء الآباء والأصاغر الأکابر فی الدنیا۔ والوجوہ الثلاثة صحیحة؛ لأنہ یقع عن ضرب استدلال فإن التمییز بین النبي صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ لا یقع إلا بضرب استدلال فلم یکن تقلیداً محضاً۔ وکذلک تقلید العالم عالماً ھو فوقہ ؛ لأن زیادة المرتبة لا تعرف إلا بضرب استدلال، وکذلک تقلید العامي العالم؛ لأنہ ما میز العالم وغیرہ إلا بضرب استدلال إلا أنہ ترک ما ھو الأولی بہ من النظر فی الحجج وربما یعاتب علیہ فما ترک الأولی إلا بکسل فإن التمییز بین الحجج لصعب والکسل فی الدین مذموم، والباطل ھو الوجہ الرابع ؛ لأنھم اتبعوہ بھوی نفوسھم بلا نظر عقلي واستدلال وعملوا عمل البھائم کما سمی اللہ تعالی أنعاماً بل أضل ؛ لأنھم وجدوا آلة التمییز فلم یستعملوھا فلم یکونوا معذورین والبھائم قد فقدت الآلة فکانت معذورة بل لم تکن مأمورة، واللہ أعلم (المصدر السابق، ص ۳۹۱)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات