عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 151945

پہلے کے مقابلے میں اب اہل حدیث لوگ دیوبندیوں کو منافق اور کافر کہہ رہے ہیں، جیسا کہ یوٹیوب پر توصیف الرحمن اور معراج ربانی کی حقیقت دیوبند نام سے ویڈیو ہیں اس میں صاف لفظوں میں دیوبندیوں کو منافق کہا ہے اور ان کا رد بھی بہت کرتے ہیں۔
تو اب سوال یہ ہے کہ جب وہ لوگ ہمیں کافر کہہ رہے ہیں اور وہی لوگ مکہ میں امامت کر رہے ہیں تو اب ہم نماز ان کے پیچھے ادا کریں گے یا نہیں؟ ان کے حساب سے ہم مقلد ہیں اور وہ غیر مقلد اور وہ الگ فرقہ ہے ان کا، تو اب جب فرقہ ہی الگ ہو گیا تو کیا نماز ایک دوسرے کے پیچھے جائز ہو جائے گی؟ اور اگر جائز ہے تو کس طرح ؟ حوالہ بھی دیجئے گا ضرور بالضرور۔
نوٹ : جواب تفصیل سے دیں گے تو مہربانی ہوگی بہت سے لوگوں کا یہ سوال ہے اور سب لوگ جواب کے منتظر ہیں۔

Published on: Jun 15, 2017

جواب # 151945

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1000-973/N=9/1438



حرمین شریفین کے ائمہ حنبلی مسلک کے ماننے والے ہیں، وہ توصیف الرحمن یا معراج ربانی کی طرح علمائے دیوبند کو برا بھلا کہنے والے نہیں ہیں ، حرمین شریفین کے بعض ائمہ کرام دار العلوم دیوبند بھی تشریف لاچکے ہیں اور انہوں نے دار العلوم دیوبند، علمائے دیوبند اور ان کی خدمات کے متعلق عالی کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔ اور حنبلی مسلک والوں کے پیچھے نماز درست ہے؛ کیوں کہ چاروں ائمہ اور ان کے ماننے والے بر حق ہیں؛ البتہ اگر کسی حنبلی امام نے نماز میں کوئی ایسا کام کیا جس سے حنفیہ کے یہاں نماز فاسد ہوجاتی ہے اور حنفی مقتدی کو اس کا علم ہوگیا تو اس صورت میں حنفی مقتدی کو اپنی نماز کا اعادہ کرنا ہوگا اور جب تک ائمہ حرمین کے متعلق کسی ایسی چیز کا علم نہ ہو تو ان کی اقتدا میں پڑھی ہوئی نماز صحت ہی پر محمول ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات