عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 150419

انٹرنیٹ کے جال نے دنیا کو مشرقین و مغربین کے بعد کے باوجود اپنی لپیٹ میں پھانس لیا ہے ، اور ساری دنیا مثل ایک گاؤں کے ہو گئی ہے ، یقینی طور پر اس کے مثبت و منفی اثرات پڑے ہیں، چنانچہ بہت سے صاحب ثروت عوام کے تعلقات دور رس ہوتے ہیں، عہدوں کی وجہ سے وہ دینی شناخت بھی حاصل کر لیتے ہیں، تو جب کوئی مسئلہ ان کے خلاف ہوتا ہے تو وہ اپنی سمجھ سے صحیح فتوی جو ان کی رائے کے موافق ہو کسی نہ کسی دارالافتاء سے نکال لیتے ہیں، تو بعض مسائل میں وہ کسی مفتی صاحب کا نام پیش کرتے ہیں اور دوسرے کنہیں مسائل میں ان سے اختلاف کر لیتے ہیں، جب کہ ہر دارالافتاء اس مضبوط منہج کے ہوتے بھی نہیں نہ ہی ہر مفتی صاحب، کیوں کہ تکمیل افتا ء میں بھی ملک کے مختلف حصے میں بہت کھل گئی ہیں جن میں سے ہر ایک کا معیار قابل قبول نہیں ہے ۔ ان باتوں کو آپ حضرات اساتذہ کرام زیادہ جانتے ہوں گے ، تو اس طرح کے لوگ اس موقع کا بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور مختلف مسائل مختلف مفتیان سے پوچھتے ہیں اور ان میں سے جو انھیں پسند آتی ہے اسے خود لیتے ہیں اور لوگوں میں بھی وہی بات عام کراتے ہیں، اس طرح گویاں یہ انتخاب کا کام کر رہے ہیں، ان کے جواب میں کسی دارالافتاء کا علمی رد کسی مسئلے کے اندر مناسب بھی نہیں ، کیوں کہ یہ پروپیگنڈہ بنا دینے میں ماہر ہوتے ہیں، اور اس سے اپنے ہی لوگ علما و علم کی ہی اہانت بھی ہوگی، تو اس طرح سے یہ نئے طرز کی غیر مقلدیت عام ہوتی جا رہی ہے ، اور دین و علم دین کی تخفیف افسوسناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے ، اور لوگ علما سے دور ہو رہے ہیں، ان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور انہیں یہ گمان ہو چلا ہے کہ دین میں رائے زنی چلتی ہی ہے ، لہذا یہ عوام بھی فتوے دے ڈالتے ہیں، اور بسا اوقات یہ فساد عقائد تک وصول پاتا ہے ، تو اس مصیبت کا کیا علاج ہو؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 1, 2017

جواب # 150419

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 771-735/B=8/1438



یہ مصیبت اپنے ہی اہل مدارس نے پیدا کر رکھی ہے کہ افتاء کے اہل ہوں یا نااہل ہوں، ان کو ا فتاء کی تعلیم برائے نام دے کر انھیں مفتی بنادیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ غلط صحیح ہرقسم کے فتوے دیے جارہے ہیں، اور عوام کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس مصیت کا علاج یہ ہے کہ جب دوفتوے ٹکرائیں تو سب سے زیادہ جو پرانے تجربہ کار ماہر اور متقی مفتی ہوں تو ان کے فتوے پر عمل کرنا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات