عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

india

سوال # 146995

غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قوم کی امامت وہ شخص کرائے جو قرآن کو زیادہ جانتاہو...[مسلم،المساجد،باب من احق بالإمامة، ح1530)فقہ حنفی-->(واولی الناس بالإمامة اعلمہم بالسنة)(حنفی شریعت میں بالکل حکم_نبوی کیخلاف) امامت کے لائق وہ شخص ہے جو \'سنت زیادہ\' جانتا ہو_[ہدایة:ج1ص124سطر1 کتاب الصلاة،باب الامامة، م/رحمانیہ برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔

Published on: Dec 28, 2016

جواب # 146995

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 271-223/D=3/1438



 



صحابہ کے دور میں چار صحابہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سالم مولی ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ قرآن کا علم رکھنے ولے تھے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا خذوا القرآن من أربعة من ابن مسعود وأبي بن کعب ومعاذ بن جبل وسالم مولی أبي حذیفة (رواہ الترمذی فی سننہ رقم: ۳۸۱۰، وقال ہذا حدیث حسن صحیح) پھر ان چار میں سے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب تھے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وأقرأہم لکتاب اللہ أبی بن کعب (ترمذی رقم: ۳۷۹۱، حدیث حسن صحیح) اور ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ میں سب سے بڑے عالم تھے چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا وکان أبوبکر أعلمنا (بخاری رقم ۲۶۶)۔ یہی بات حضرت ابو معلی رضی اللہ عنہ نے بھی فرمائی (ترمذی رقم: ۳۶۵۹) اور حضور علیہ السلام نے اپنی حیات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنایا جبکہ وہاں مذکورہ چار صحابہ موجو د تھے چنانچہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم فاشتد مرضہ فقال مروا أبا بکر فلیصل بالناس الحدیث (بخاری رقم: ۶۸۸) نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا جہاں ابوبکر ہو وہاں ان کے علاوہ کسی کے لیے امامت کرنا مناسب نہیں ہے عن عائشة قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاینبغی لقوم فیہم أبوبکر أن یوٴمہم غیرہ (ترمذی رقم ۳۶۷۳) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اعلم امامت کا زیادہ مستحق ہے أقرأ کے مقابلہ میں اور یہی احناف کا مسلک ہے۔



نوٹ: آپ ہدایہ علماء کی عدالت میں بجواب ہدایہ عوام کی عدالت میں کا مطالعہ کریں اس میں ہدایہ پر کئے گئے تمام اعتراضات کے جوابات موجود ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات