عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

india

سوال # 146860

غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر وعصر کی پھلی دورکعتوں میں سورة فاتحہ اور دوکوئی سورتیں اور...دوسری دورکعتوں میں سورة فاتحہ پڑھتے _،(مسلم#1113]فقہ حنفی->(وھومخیرفی الاخریین معناہ إن شآء سکت وإن شآء قرأ وان شآء سبح)اسے (امام کو)پچھلی دورکعتوں میں اختیار دیاگیاہے _معنی یہ ہے امام چاھے توخاموش رہے اورچاھے تو سورت پڑھ لے ...(ھدایة:ج1ص154،باب النوافل)۔ برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔

Published on: Jan 10, 2017

جواب # 146860

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 260-231/Sn=4/1438



ہدایہ کی عبارت اگر اخیر تک دیکھ لی جاتی تو شاید یہ اشکال نہ رہتا، مذکور فی السوال عبارت سے متصلاً ”ہدایہ“ میں ہے ”کذا روي عن أبي حنیفة -رحمہ اللہ- “وہو الماثور عن علي وابن مسعود وعائشة“ رضي اللہ عنہم إلا أن الأفضل أن یقرأ؛ لأنہ علیہ الصلاة والسلام داوم علی ذلک (ہدایہ ۱/۶۸، ط: بیروت) یعنی احناف کے نزدیک فرض کے اخیر کی دو رکعتوں میں قرأت یعنی سورہٴ فاتحہ پڑھنا افضل ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص سورہٴ فاتحہ کے بہ جائے تسبیح پڑھ لے تو یہ گو خلافِ افضل ہے؛ لیکن فی نفسہ گنجائش ہے، ایسی صورت میں بھی نماز ہوجائے گی، یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہ رضی اللہ اللہ عنہما سے ثابت اور مروی ہے، حاصل یہ ہے کہ ”ہدایہ“ میں وہ مسئلہ لکھا گیا ہے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے کبارِ صحابہ حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم نے سمجھا یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دونوں رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ پڑھنا بیانِ افضل کے لیے تھا نہ کہ وجوب وفرض کے طور پر، جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شب وروز رہنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے کوئی معنی سمجھیں تو ہمیں اور آپ یا کسی غیرمقلد کو اس پر اعتراض کا کیا حق ہوتا ہے، خصوصاً جب کہ وہ چیز ”مدرک بالقیاس“ نہ ہو؛ کیوں کہ غیرمدرک بالقیاس اور صحابہ کا قول وعمل ”مرفوع“ کے درجے میں ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اعلاء السنن ۳/۱۳۰، ط: کراچی کا مطالبہ کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات