عقائد و ایمانیات - تقلید ائمہ ومسالک

India

سوال # 146444

حضرت، میری ایک غیر مقلد سے ملاقات ہوئی تو ایسے ہی جب اس سے بات ہونے لگی تو میں نے اس سے کہا کہ ہمارے دلائل چار ہیں: قرآن و سنت، اجماع اور قیاس۔ تو اس نے کہا کہ تم ان میں دو کو زائد مانتے ہو، تو میں نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا کیوں؟ میں نے کہا کہ سارے مسائل قرآن و سنت میں ظاہراً موجود نہیں ہیں، تو اس نے کہا کہ نہیں! سارے موجود ہیں۔ تو میں نے اس سے کہا پھر یہ بتاوٴ کہ بھینس کو عربی میں کیا کہتے ہیں، تو اس نے کہا کہ جاموس، تو میں نے اس سے کہا کہ اس کے حلال ہونے کا ذکر کہیں قرآن و حدیث میں دکھا دو، تو اس نے کہا کہ ہاں ایک حدیث ہے، تو پھر اس نے مجھے یہ حدیث قدسی سنائی جس کا مفہوم ہے: کہ اللہ نے حلال کو بیان کردیا اور اللہ نے حرام کو بیان کر دیا، لیکن کچھ باتوں میں اللہ نے سکوت اختیار کی ہے، تو تم یہ مت سمجھنا کہ اللہ بھول گیا ہے، اللہ بھولتے نہیں ہیں، اللہ جان بوجھ کر خاموش ہے، تاکہ وہ چیز میرے بندے کے لیے مباح یعنی جائز ہو جائے، اور کہا کہ اس حدیث سے بھینس حلال ہو گئی، کیونکہ بھینس کے حلال یا حرام پر کوئی حدیث نہیں ہے، تو اس حدیث سے بھینس حلال ہو گئی، تو میں نے اس سے کہا کہ پھر تو کچھوا بھی حلال ہونا چاہئے، تو اس نے کہا کہ ہاں! تو میں نے کہا، پھر کھا کر دکھادو، تو اس نے کہا کہ لے آوٴ میں تو کھا لوں گا، اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس سے لوگوں کا ذہن خراب کر رہا ہے کہ سارے مسائل قرآن و حدیث میں ہیں، یہ دو زائد جو ہیں اجماع اور قیاس، یہ مولویوں کی خرافات ہیں، تو اس حدیث کا اصل مفہوم اور کچھ اس کا حل بتائیں، تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ تو نہ کرے۔

Published on: Jan 7, 2017

جواب # 146444

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 211-273/Sn=4/1438



 



جس ”حدیثِ قدسی“ کا مفہوم آپ نے بیان کیا ہے، اس حدیث کا عربی متن مع حوالہ اس غیرمقلد سے معلوم کرکے تحریر کریں، پھر حدیث کا مطلب لکھ دیا جائے گا، ان شاء اللہ، جہاں تک اجماع اور قیاس کی ”حجیت“ کی بات ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ خیر القرون سے لے کر آج تک جتنے بھی بڑے بڑے محدثین، شراحِ حدیث اور فقہاء وائمہ گزرے ہیں سب ”اجماع اور قیاس“ کو قرآن وسنت کے بعد شرعی دلیل کے طور پر مانتے آئے ہیں، ان علماء و محدثین میں حضرت امام مالک رحمہ اللہ (جو بلند پایہ محدث اور فقیہ تھے جنھیں امام در الہجرہ کا لقب دیا جاتا ہے) اسی طرح مشہور محدث احمد بن حنبل، عبد اللہ بن المبارک، سفیان ثوری، امام بخاری، امام نووی، حافظ بن حجر (رحمہم اللہ) یہاں تک کہ علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم (رحمہما اللہ) بھی ان میں شامل ہیں، کیا یہ تمام محدثین اور فقہاء جن کی تصنیفات سے پوری امت استفادہ کرتی ہے ”خرافات“ (جیسا کہ غیرمقلد کا کہنا ہے کہ اجماع اور قیاس مولویوں کی خرافات ہیں) پر عمل کرتے تھے، اور ”خرافات“ کو بھی حجت شرعی تسلیم کرتے تھے، یہ سوال آپ اس غیر مقلد سے پوچھئے، اسی طرح اس سے معلوم کیجیے کہ جب راویوں کی توثیق وتضعیف اور احادیث کی تشریح وغیرہ میں ان کبارِ محدثین وفقہاء پر اعتماد کیا جاسکتا ہے تو اجماع اور قیاس کی ”حجیت“ کے سلسلے میں ان کے عمل وقول پر کیوں اعتماد نہیں کیا جاتا؟



نوٹ: اجماع اور قیاس کی حجیت قرآن وحدیث سے ثابت ہے، چاروں فقہی مسلک کی کتابوں میں اجماع اور قیاس کی حجیت کی دلیلیں موجود ہیں، نیز اس موضوع پر مستقل تصنیفات بھی موجود ہیں، مکتبہ دارالعلوم دیوبند سے شائع شدہ ”مجموعہٴ رسائل ومقالات“ میں بزبان اردو اجماع اور قیاس کی حجیت نیز غیرمقلدین کی طرف سے ”احناف“ کے اوپر کیے جانے والے اعتراضات کے تفصیلی جوابات موجود ہیں، بہ وقت ضرورت اس کی طرف مراجعت کرسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات