معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 2970

میرے ایک مسلم دوست کا یہ سوال ہے: میری فیملی میں ایک لڑکی ہے جب اس کی عمر ۱۲/ سال تھی تو اس کانکاح ایک ۱۵- ۱۴/ سالہ لڑکا سے کردیاگیاتھا، لیکن اب اس لڑکی کی عمر ۱۹- ۱۸/ سال ہے اور اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔براہ کرم، بتائیں کہ شریعت کی روسے کیا قدم اٹھایاجائے گا؟

Published on: Mar 3, 2008

جواب # 2970

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 132/ ج= 126/ ج


 


اگر بیوی شوہر کو کسی وجہ سے ناپسند کرے اور شوہر یہ محسوس کرے کہ اس کے ساتھ گذارا مشکل ہے تو شوہر کو چاہیے کہ ایک طلاق دے کر بیوی کو حلاحدہ کردے، لیکن شوہر اگر ایسا کرنے پر آمادہ نہیں تو شرعاً اسے اس بات کا اختیار ہے کہ بیوی سے مہر لے کر اسے آزاد کردے اور اس کی صورت یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ: میں نے مہر کے عوض تجھ سے خلع کیا، اور بیوی کہے کہ: میں نے قبول کیا۔ مذکورہ بالا کلمات کے ادا کرلینے کے بعد بیوی مطلقہ بائنہ ہوجائے گی اور اس کے ذمہ شوہر کو مہر لوٹانا واجب ہوگا۔ اور اگر شوہر نے بیوی کو مہر نہیں ادا کیا ہے تو وہ اس کی ادائیگی سے سبکدوش ہوجائے گا۔ شوہر سے جدائی کے لیے شریعت کی رو سے یہی طریقے ہیں: الخلع ھو إزالة ملک النکاح المتوقفة علی قبولھا أو ما في معناہ ولا بأس بہ عند الحاجة بما یصلح للمھر (الشامي: ج۵ ص۸۵)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات