معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 2902

یہ بات تو مفتی بہ ہے کہ شک سے طلاق وقع نہیں ہوتی ہے مگر شک میں دونوں پہلو ہوتے ہیں کہ ایا زید نے طلاق دی یا نہیں ؟ اگر و اقع نہیں دی توشک کا یہ پہلو صحیح ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور دوسرا پہلو یہ بھی تو یہ ہے کہ شاید اس نے طلاق دیدی ہو؟ اب غور طلب امر یہ ہے کہ ایک مفتی صاحب نے جواب دیا ہے کہ شک میں طلاق واقع نہیں ہوتی تو اگر زید نے طلاق دی بھی ہو اور وقعتا اس کو یاد نہیں ، شک ہے تو اللہ کے یہاں کیا ہوگیا؟فتوی کے مطابق معاملہ ہوگا؟ جامعہ بنور ٹاؤن کے مفتی جناب عبد المجید دین پوری صاحب نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر زید کو یاد نہیں اور اس نے کبھی طلاق بھی دی ہو یا کلمہ کفر کہہ بھی دیاہو اور وقعتا اسے یاد نہیں ہوتو اسے پریشان نہیں ہونا چاہئے ، اللہ کے ہاں معاف ہے کہ اسے یاد نہیں ہے چونکہ نکاح اور ایمان سالم ہیں ۔ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔ (۲) فرضی مسائل نکاح اور ایمان اور کفر کے بارے میں معلوم کرنے سے نکاح اور ایمان متائثر ہوتے ہیں؟

Published on: Apr 3, 2008

جواب # 2902

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 224/ ج= 218/ ج


 


جامعہ بنوری ٹاوٴن کا فتویٰ صحیح ہے شریعت نے شک کا اعتبار نہیں کیا ہے۔ اگر طلاق دینے یا نہ دینے میں شک ہوجائے تو طلاق واقع نہہوگی خواہ اس نے واقع میں طلاق دے دی ہو، مسئلہ کتب فقہیہ میں مصرح ہے ومنھا شک ھل طلق أم لا لم یقع قال الحموي قال المصنف في فتواہ ولا اعتبار بالشک (الأشباہ: ۱۰۸) البتہ اگر غالب گمان یہ ہوجائے کہ طلاق دی ہے تو شرعاً طلاق واقع ہوجائے گی قال في الأشباہگ إلا أن یکون أکبر ظنہ علی خلافہ


(۲) نکاح، ایمان وکفر کے بارے میں فرضی مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے نکاح اور ایمان متأثر نہیں ہوتا مشہور قاعدہ نقل کفر کفر نہ باشد کہ کفر کا نقل کرنا کفر نہیں ہے۔ اشباہ میں ہے ولو کرر مسائل الطلاق بحضرتھا ویقول في کل مرة أنت طلاق لم تطلق (أشباہ، ص:۴۵) البتہ عامی شخص کو بلاضرورت اس طرح کے فرضی مسائل پوچھنے سے احتیاط کرنا چاہیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات