معاشرت - طلاق و خلع

United Kingdom

سوال # 1770

اگر کوئی اپنی بیوی سے یہ کہے کہ میں تمہارے نام ایک گانا وقف کروں گا اور پھر بعد میں اس سے انکار کردیتاہے۔ اس کے بعد وہ گانا گاتاہے اور اپنے مزاحیہ گانے میں کہتاہے ” میرے پاس ۳۰۳/ اسلحے ہیں (رائفل کی طرح)اور میں اس کوآزاد کردوں گا (نغمہ کار اپنے گانے میں ایک عورت سے مخاطب ہوتاہے)“ سوال یہ ہے کہ شوہر(نغمہ کار) نے پہلے اپنی بیوی کے نام گانا گانے کو کہالیکن جب گانا شروع کیا توکہایہ اس کے نام نہیں ہے۔ نغمہ کار نے اپنے گانے میں جو الفاظ گائے توکیا اس سے اس کے نکاح میں فرق پڑے گا؟ وہ پہلے گانے کے الفاظ سے واقف نہیں تھااور نہ ہی اپنی بیوی کو چھوڑنے کا ارادہ کیاتھا۔ براہ کرم، اس پیچیدہ مسئلہ کا جواب دیں۔

Published on: Nov 3, 2007

جواب # 1770

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: / ھ= 1184/ ھ


 


اس طرح گانا اوراس کا وقف کرنا حرام ہے، اگر اس گانے نیز اس کے تمام اشعار میں بسلسلہٴ طلاق بس یہی الفاظ تھے کہ: میں اس (بیوی) کو آزاد کروں گا، تو ان الفاظ سے نکاح پر کچھ اثر نہ پڑا، البتہ اگر ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور الفاظ ہوں تو حکم بدل بھی سکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ تمام اشعار نقل کرکے سوال کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات