معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 172982

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ میاں بیوی کا آپس میں خلع ہونے کے بعد بیوی عدت میں ہے اور ابھی عدت کو ایک ماہ گزرا ہے کہ شوہر کا انتقال ہوگیا تو کیا بیوی خلع ہونے کے بعد حالت عدت میں اپنے فوت شدہ شوہر کے مال میں وارث ہوگی یا نہیں؟ جو بھی جواب ہو برائے کرم مدلل جواب عنایت فرمائیں، نوازش ہوگی۔

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 172982

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1172-941/sn=1/1441



 جب شوہر نے خلع منظور کیا تھا اگر اس وقت وہ مرض الوفات میں نہ تھا تو صورت مسئولہ میں بیوی وارث نہ گی۔ نوٹ: اگر مرض وفات میں تھا تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے اور آئندہ استفتا میں یہ بھی واضح کیا جائے کہ خلع لینے دینے کی نوعیت کیا تھی؟اکراہ وغیرہ کی کوئی صورت تو نہ تھی؟



(قولہ طلقہا رجعیا أو بائنا فی مرض موتہ، ومات فی عدتہا ورثت وبعدہا لا). . . . أطلق الرجعی لیفید أنہا ترث، وإن طلق فی الصحة ما دامت فی العدة لبقاء الزوجیة بینہما حقیقة حتی حل الوطء، وورثہا إذا ماتت فیہا. (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحة الخالق وتکملة الطوری 4/ 70، ط: زکریا، دیوبند). . . . . . (قولہ أطلق الرجعی لیفید إلخ) قال فی النہر، وعندی أنہ کان ینبغی حذف الرجعی من ہذا الباب لأنہا فیہ ترث، ولوطلقہا فی الصحة ما بقیت العدة بخلاف البائن فإنہا لا ترثہ إلا إذا کان فی المرض، وقد أحسن القدوری فی اقتصارہ علی البائن، ولم أرمن نبہ علی ہذا. (منحة الخالق مع البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحة الخالق وتکملة الطوری 4/ 70، ط: زکریا، م دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات