معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 171604

میری شادی فروری 2019 میں ہوئی ۔معاملہ یہ ہے کہ میرے گھر والے نے جب لڑکی دیکھا ۔لڑکی کو اتنا گہرا میک اپ کرایا گیا ۔کی لڑکی کے جلد کے رنگ کو تبدیل کر وائٹ کیا گیا ۔جبکہ حقیقت میں اس کا رنگ سانولا ہے ۔ جو بایوڈاٹا دستیاب کرایا گیا اس میں بھی لڑکی کا رنگ ملکی وائٹ مینشن کیا گیا ۔اس سلسلے میں شادی کے بعد جب ہم نے لڑکی کے والد اور بھائی کو بلا کر پوچھا تو انہوں اقرار کیا اور معافی مانگنے لگے ۔اور کہنے لگے اب تو شادی ہو گئی کیا کیجئے گا ۔اس سلسلے میں میرا یہ ماننا ہے کہ میرے ساتھ دھوکا کیا گیا۔اور صورت حال یہ ہے کہ وہ لڑکی کسی قدر ہمیں پسند نہیں ۔ہم کسی طرح بھی اس کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی گزر بسر کرنا نہیں چاہتے ۔میری رہنمائی کی جائے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ۔آیا اس لڑکی کو طلاق دے دوں یا نہیں ؟اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہوگا ؟
آیا اس لڑکی کو طلاق دے دوں یا نہیں ؟ . میری رہنمائی کی جائے اس معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہوگا ؟

Published on: Jul 16, 2019

جواب # 171604

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1081-865/B=10/1440



محض بیوی کے سانولا ہونے کی وجہ سے اسے پسند نہ کرنا اور طلاق دینے کی بات سوچنا مناسب نہیں ہے۔ دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں مثالیں ایسی ہیں کہ شوہر سانولا اور بیوی گوری، اور شوہر گورا بیوی سانولی، اسے ناپسند کرنا ٹھیک نہیں۔ کالے گورے سب کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ اگر بیوی دیندار اور بااخلاق اور آپ کی اطاعت شعار ہے تو اسے طلاق دینا اچھی بات نہیں۔ صبر کریں، بہت ممکن ہے اللہ نے اسی عورت میں آپ کے لئے خیر رکھا ہو۔ سسرال والے نے اپنی دھوکہ دہی کو تسلیم کر لیا۔ اور معافی مانگ رہے ہیں تو انہیں معاف کردینا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات