معاشرت - طلاق و خلع

myanmar

سوال # 170669

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک روز اپنی منگیتر سے یہ کہدیا کہ" تیرے زندہ ہوتے ہوئے میں دوسری لڑکی سے نکاح کیا تو اس پر تین طلاق" پھر میرا اس کے ساتھ کسی وجہ سے نکاح نہیں ہوا اور وہ زندہ بھی ہے کیا میں اس کے زندہ ہوتے ہوئے دوسری لڑکی سے نکاح نہیں کر سکتا یا اس مسئلہ کا کوئی حل ہے؟ برائے کرم جواب ارسال فرمائیں۔

Published on: Jun 22, 2019

جواب # 170669

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 906-761/D=09/1440



جی ہاں اس کے زندہ ہوتے ہوئے کسی دوسری لڑکی سے آپ نے نکاح کیا تو اس پر تین طلاق واقع ہو جائے گی۔



اس کا حل یہ ہے کہ نہ آپ خود نکاح کا ایجاب و قبول کریں نہ کسی کو وکیل بنائیں کہ وہ آپ کی طرف سے ایجاب و قبول کرے بلکہ کسی مسئلہ جاننے والے شخص سے اپنے حالات بتائیں پھر وہ آپ کے منشا کو سمجھ کر فضولی کی حیثیت سے آپ کا نکاح اس لڑکی سے کردے جس سے آپ چاہتے ہیں پھر آپ اس نکاح کی منظوری فعل کے ذریعہ دیں مثلا مہر کی کچھ رقم بھیج دیں۔



فضولی کے نکاح میں کچھ تفصیل اور باریکی ہے لہٰذا آپ خود بھی کسی عالم سے بالمشافہہ اسے سمجھ لیں گے اور جو فضولی نکاح پڑھائے وہ بھی سمجھ لے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات